ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 292
۲۹۲ موجود نہیں ہے اور نہ ہی احادیث میں اس کی صراحت آئی ہے۔کیونکہ حدیث مشہور سے یہ ثابت ہے کہ ایک طلائن نے آنحضرت صلعم کے سامنے بعان کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دی تھی اور آپ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا تھا۔راسی طرح اس فریق کی عقلی دلیل یہ ہے کہ بعان تو صرف حد قذف سے بچانے کے لئے ہے نہ یہ کہ اس سے وہ عورت اس پر حرام ہو جاتی ہے۔جمہور کی اس کے متعلق عقلی دلیل یہ ہے کہ زوجیت کے رشتہ کی اساس محبت اور رحمت پر رکھی گئی ہے۔جب لعان کی وجہ سے دونوں کے درمیان بغض اور نفرت پیدا ہو گئی تو اس کے بعد ہمیشہ کی جدائی ہی قرین مصلحت ہے۔لہذا نفس بعان ہی ہمیشہ کی جدائی کا موجب ہے۔اب سوال یہ ہے کہ یہ فرقت کسی وقت سے شمار ہوگی ؟ سو اسکے متعلق امام مالک۔لیث اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ جب دونوں ملا عین یتان سے فارغ ہوں۔اُسوقت جدائی واجب ہوتی ہے۔امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ جب خاوند یتان سے فارغ ہو اُس وقت جدائی واجب ہو جاتی ہے۔امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ بیعان کے بعد فرقت کے لئے حاکم کا حکم ضروری ہے یہی مذہب ثوری اور احمد کا ہے۔امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملا نکین کے درمیان لعان کے بعد فرقت کرا دی اور فرمایا :- حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ اَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا۔اس سے معلوم ہوا کہ فرقت کے لئے ہر دو کے درمیان یحان مکمل ہونا ضروری ہے ہے امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ عورت کا معان تو اس سے حد زنا سے حد زنا کو دور کرنے کے لئے ہوتا ہے۔البتہ مرد کا لعان بچے کے نسب سے نفی کے لئے