ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 290
۲۹۰ صورت میں نہ تو زنا کا کوئی ثبوت ہے اور نہ ہی عزم کا اپنا اقرار ہے۔اس لئے اس پر حد نہیں لگنی چاہیئے۔امام ابو حنیفہ کی دوسری دلیل یہ ہے کہ محض انکار کی وجہ سے کسی کا خون بہانا خلاف اصول ہے۔کیونکہ بعض فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ مدعی علیہ کے صرف انکار کی وجہ سے اس کی خلاف مالی ڈگری نہیں دی جاسکتی اس اصول کے ماتحت مدعلی علیہ کے انکار کی وجہ سے اس کا خون بہانا بھی جائز نہیں ہونا چاہیئے در حقیقت خون بہانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ یا تو اس کے متعلق عادل گواہ موجود ہوں یا ملزم کا خود اعترافِ جرم ہو۔چونکہ اس جگہ یہ دونوں صورتیں موجود نہیں ہیں۔لہذا ایسی عورت جو جرم سے انکار کرے اس پر حد نہیں لگنی چاہیئے۔علامہ ابن رشد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں اس مسئلہ میں امام ابو حفیظہ کا قول معتبر ہے۔اور ابو المعالی نے اپنی کتاب "برہان میں اس مسئلہ میں امام ابو حنیفہ کے دلائل کی قوت کو تسلیم کیا ہے۔اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر مرد بیوی پر زنا کا الزام لگ الزام لگائے اور اپنے نسب کی نفی کے بعد رجوع کرے تو اُسے حد قذف لگائی جائیگی۔اور بچہ اس کی طرف منسوب کیا جائیگا۔اس امر میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ بعان کے بعد میاں بیوی خود یا حاکم کے حکم سے دوبارہ اکٹھے ہو سکتے ہیں یا نہیں ؟ امام مالک - شافعی - ثوری - داؤد ، احمد اور جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے۔کہ یحان کے بعد وہ دونوں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔اگرچہ الزام لگانے والا اس کے بعد اپنے قول سے رجوع کرلے۔امام ابو حنیفہ اور ایک فریق کا اس کے متعلق یہ مذہب ہے کہ اگر وہ اپنے قول سے رجوع کرے تو اُسے کوڑوں کی حد لگائی جائے گی۔اس کے بعد وہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کے بعد انہیں جدید نکاح کی ضرورت