ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 245
۲۴۵ زیادہ ہونی چاہیئے۔امام ابو حنیفہ اور وہ فقہاء جن کے نز دیک رجوع چار ماہ کے اندر ہونا چاہیئے ان کے نزدیک ایلاء کی مدت صرف چار ماہ ہے۔ابن ابی لیلی اور حسن بصری کے نزدیک جب خاوند قطع تعلق کی قسم کھائے اور اس کی مدت خواہ چار ماہ سے کم بیان کرے یا زیادہ اس پر ایلا کا حکم لگایا جائیگا لیکن عملاً اس کے لئے قسم کے وقت سے چار ماہ کی مدت مقرر کی جائے گی۔اگر اس عرصہ میں رجوع کرلے گا تو بہتر ورنہ اس کی طرف سے طلاق سمجھی جائے گی۔حضرت ابن عباس کی ایک روایت کے مطابق ایلاء یہ ہے کہ خاوند اپنی بیوی سے ہمیشہ کے لئے تعلقات زوجیت منقطع کرنے کی قسم کھائے۔پانچواں اختلاف یہ ہے کہ ایلار کے بعد جو طلاق دی جائے گی وہ بھی ہوگی یا بائن ؟ اس کے متعلق امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ یہ طلاق شرقی ہو گی۔ان کی دلیل یہ ہے کہ وہ طلاق جو کسی شرعی حکم کے ماتحت دی جاتی ہے وہ رجعی سمجھی جاتی ہے سوائے اس کے کہ اس کے خلاف کوئی شرعی دلیل موجود ہو جو پہلے حکم سے زیادہ مضبوط ہو۔ایلاء کی صورت میں علیحدگی بھی چونکہ شرعی حکم کے ماتحت ہوئی ہے اس لئے شرعی حکم کے تقاضا کے مطابق اس پر ابھی طلاق واقع ہوگی۔وجہ اختلاف | ایک طرف ایلاء کی مصلحت کا تقاضا ہے اور دوسری طرف طلاق کا اصل حکم ہے۔جس نے طلاق کے اصل حکم کو ملحوظ رکھا اس نے اسے طلاق اچھی قرار دیا اور جس نے مصلحت کو ملحوظ رکھا اس نے اسے طلاق بائن قرار دیا۔کیونکہ اگر اسے طلاق بائن قرار نہ دیا جائے تو ایلاء کرنے والا ہمیشہ ایلاء کرتا رہے گا اور رجوع کرتا رہے گا۔