ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 246
چھٹا اختلاف یہ ہے کہ اگر خاوند ایلاء کی مدت گذرنے کے بعد نہ طلاق دے اور نہ رجوع کرے تو کیا قاضی اُسے طلاق دے سکتا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق امام مالک کا یہ مذہب ہے کہ قاضی اسے طلاق دے سکتا ہے اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ قاضی اسے قید کرے یہاں تک کہ وہ طلاق دے یا رجوع کرے۔وجہ اختلاف | اس اختلاف کا سبب بھی مصلحت۔اور طلاق کا ظاہری حکم ہے جس نے مصلحت کو ملحوظ رکھا اس نے یہ کہا کہ قاضی طلاق دے سکتا ہے جن طلاق کے ظاہری حکم کو ملحوظ رکھا اس کے نزدیک طلاق کا حق صرف خاوند کو ہے اس لئے قاضی اسے طلاق نہیں دے سکتا۔ساتواں اختلاف یہ ہے کہ اگر ایلاء کرنے والا خاوند ایلاء کے بعد طلاق دیدے۔اس کے بعد رجوع کرلے تو کیا رجوع کے بعد ایلاء کا حکم پھر عود کر آتا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اگر رجوع کے بعد اس سے معات نہ کرے تو ایلاء کا حکم پھر خود کر آئے گا خواہ اس کی طلاق رجعی ہو یا بائن۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک صرف پاکن طلاق سے ایلار کا حکم ساقط ہو جاتا ہے رچھی سے نہیں۔امام شافعی " کا ایک قول بھی اسی کے موافق ہے۔اور اس کو مرانی نے اختیار کیا ہے۔فقہار کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ رجوع کے بعد ایلاء کا حکم خود نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ قطع تعلق کی دوبارہ قسم کھائے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب بھی مصلحت اور طلاق کی ظاہری شرط ہے۔ظاہری شرط یہ ہے کہ شریعت میں ایلاء کے لئے قسم کھانا ضروری ہے لیکن یہ قسم ایک ہی نکاح میں ہو یعنی ایک نکاح کی قسم دوسرے نکاح پر اثر انداز نہیں ہوتی۔دوسری طرف مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ ایلاء کے حکم کے ذریہ