ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 244
۲۴۴ میں مباح ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات کی قسمیں ہیں۔امام مالک اللہ تعالے کے عمومی ارشاد کی طرف گئے ہیں۔لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ ارْبَعَةِ أَشْهُرٍ امام شافعی ایلار کو کفارہ کی قسموں کے مشابہ قرار دیتے ہیں کیونکہ ان دونوں قسموں پر شرعی حکم مرتب ہوتا ہے اس لئے یہ دونوں قسمیں اپنی جنس میں بھی ایک دوسری کے مشابہ ہونی چاہئیں۔یعنی جس طرح وہ قسمیں جن پر کفارہ لازم آتا ہے وہ وہی ہوتی ہیں جو دل کے ارادہ سے ہوں تکیہ کلام کے طور پر نہ ہوں ہذا ایلاء کی قسم بھی ایسی ہی ہونی چاہیئے۔تیسرا اختلاف یہ ہے کہ اگر خاوند بغیر قسم کے ایک مدت تک بیوی سے تعلق پیدا نہ کرے تو یہ بھی ابلاء میں شامل ہوگا یا نہیں ؟ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ قیمے بغیر ایلار کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔لیکن امام یک کے نزدیک بغیر قسم کے بھی ایلاء کا حکم لگایا جاسکتا ہے جبکہ یہ ثابت ہو کہ خاوند اس طرح اپنی بیوی کو ضرر پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔جمہور ظاہر حکم کی طرف گئے ہیں لیکن امام مالک حکم کے مقصد اور معنی کی طرف گئے ہیں۔ان کے نزدیک اس حکم کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی سے علیحدگی کا عزم رکھتا ہے کبھی وہ عزم کو قسم کے ساتھ اور پختہ کر دیتا ہے کبھی بغیر قسم کے ہی اس عزم پر قائم رہتا ہے۔بہر حال اس کی بیوی کو تو ان دونوں صورتوں میں یکسان نقصان پہنچتا ہے اس لئے ان دونوں کے حکم میں بھی کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے۔چوتھا اختلاف | مدت ایلار کے متعلق ہے۔امام مالک اور ان کے اصحاب جن کا یہ مذہب ہے کہ رجوع یا طلاق کا حق چار ماہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ہوتا ہے ان کے نزدیک مدت ایلاء چار ماہ سے