ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 221 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 221

۲۲۱ اس لئے ایسی عورت کے لئے مدت حمل تک انتظار کرنا اس غرض کے لئے ضروری ہے۔جب مدت حمل گذر جائے اور اس دوران میں اسے حیض نہ آئے اور نہ ہی حمل ظاہر ہو تو اس کے بعد وہ تین ماہ عدت گزارے گی۔اس دوران میں جب اسے حیض آجائے تو پھر اسے حائضہ عورت سمجھے کر تین حیض عزت گزارنی ہوگی۔پھر جب ایک حیض آنے کے بعد اس کا حیض بند ہو جائے گا تو پھر اس کے ساتھ پہلا سا سلوک کیا جائے گا۔تا کہ اس کے متعلق ہر قسم کے شبات رفع ہو جائیں۔جمہور فقہاء اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ظاہر مفہوم کی طرف گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَأَن يَسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّ نُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرِه اس آیت کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ تین ماہ عدت صرف اس عورت کی ہے جو حیض سے مایوسی کی عمر کو پہنچ چکی ہو لیکن وہ عورت جس کا حیض کسی اور وجہ سے بند ہو گیا ہو اور وہ ابھی اس عمر تک نہ پہنچی ہو جبکہ عام طور پر عورتوں کو حیض آنا بند ہو جاتا ہے ایسی عورت پر اس آیت کے مطابق حکم لگانا درست نہیں ہے۔جمہور کے اس استدلال پر ابن رشد یہ فرماتے ہیں کہ یہ مذہب کہ ایسی عورت جس کو حیض آتے آتے رک گیا ہو وہ حیض سے مایوسی کی عمر تک انتظار کرے یہ بہت مشکل اور حرج کی بات ہے اگر اس کے متعلق یہ کہا جاتا کہ وہ بھی تین مہینے عدت گزارے زیادہ بہتر ہوتا۔اہ ترجمہ : اور دتمہاری ہیولوں میں سے ، وہ عورتیں جو حیض سے بایوس ہو چکی ہوں اگر انکی عدت کے متعلق تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔سے اس بارہ میں این رشد کا مذہب بالکل درست ہے۔در حقیقت قرآن مجید کی مندرجہ بالا آیت میں ایسی عورت کا حکم بیان کیا گیا ہے جو اس غمر کو پہنچ چکی ہو جس میں حیض نہیں آتا۔اور ایسی عورت جس کا حیض کسی اور وجہ سے بند ہو گیا ہو اس کا حکم مندرجہ بالا آیت کے TENAAT NATURATENDANT کے الفاظ میں: سے جیمز کی عدت بھی تین مہینے ہے