ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 222 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 222

۲۲۲ ابن رشد فرماتے ہیں کہ امام مالک نے جو یہ کہا ہے کہ آیت کے الفاظ ان ادبم کا اشارہ حیض کی طرف نہیں ہے بلکہ حکم کی طرف ہے۔یہ تاویل ان کے مذہب کی تائید نہیں کرتی کیونکہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اس کے حیض کے متعلق تو کسی کو شبہ نہیں ہے یعنی اس بارہ میں کسی کو شبہ نہیں ہے کہ اسے حیض نہیں آتا۔صرف اس کے حکم کے متعلق شبہ ہے۔اور یہ ایسی ہی عدت کے متعلق ہو سکتا ہے جو حیض کی عمر سے گذر چکی ہو۔لیکن اس کی عدت جو تو مہینے تک رکھی ہے وہ اس عورت کی کبھی ہے جس کے حیض کے متعلق احتمال اور شبہ ہو کیونکہ جس عورت کے متعلق یہ یقین ہو کہ وہ حیض سے مایوسی کی عمر کو پہنچ چکی ہے اور اس کو حیض آنے کا کوئی امکان نہیں ہے اس کے متعلق سب کا اتفاق ہے کہ وہ تین ماہ عدت گزارے۔وہ عورت جس کا حیض کسی وجہ سے منقطع ہو۔مثلاً رضاعت کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے تو اس کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ وہ حیض کے آنے کا انتظار کرے خواہ یہ مدت قلیل ہو یا کثیر۔مستحاضہ جس کو کسی بیماری کی وجہ سے ہر وقت خون جاری رہتا ہو اور حیض کے خون اور بیماری کے خون میں انتیار نہ ہوتا ہو۔امام مالک کے نزدیک اس کی عدت ایک سال ہے لیکن اگر حیض اور بیماری کے خون میں امتیاز ہو سکتا ہو تو اس کے متعلق دو روایات ہیں۔ایک یہ کہ وہ بھی ایک سال تک عدت گزار سے اور دوسری یہ کہ وہ حیض کے خون کی پہچان کے مطابق تین حیض عدت گزارے۔امام شافعی کے نزدیک وہ حساب لگا کر حیض کے حساب سے عزت گزارے کیونکہ حیض کا خون گہرا سرخ ہوتا ہے اور استحاضہ کا نہ ردی مائل لہذا اس تمیز کے ماتحت وہ حساب سے عدت گزارے۔امام مالک نے مستحاضہ کی عدت ایک سال اس لئے رکھی ہے کہ ان کے نزدیک مستحاضہ کا حکم بھی اس عورت کی طرح ہے جو حیض کی عمر میں ہو لیکن اسے حیض نہ آتا ہو۔لہذا وہ نو ماہ مدت حمل کے اور تین مہینے مدت عدت کے مطابق