ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 220
: ! ۲۲۰ غرض کو پورا کرنے والا ہے تو معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ میں قدم کے معنی حیض کے ہیں ظہر کے نہیں۔وہ عورت جس کو طلاق دی گئی ہو اور اسے حیض نہ آتا ہو حالانکہ وہ حیض کی عمر میں ہو یعنی اس عمر میں عام طور پر حیض آجاتا ہو اور اس عورت کو حمل کا شبہ بھی نہ ہو اور رضاعت یا بیماری کی وجہ بھی نہ ہو تو امام مالک کے نزدیک وہ نو ماہ تک انتظار کرے اگر اس عرصہ میں اسے حیض نہ آئے تو پھر وہ تین ماہ تک عدت گزارے۔اگر ان تین ماہ کے عرصہ کے اندر اسے حیض آجائے تو پھر تین حیض تک انتظار کرے۔لیکن اگر ایک حیض آنے کے بعد دو سر رمیض نہ آئے تو پھر نو ماہ تک انتظار کرے۔اگر نو ماہ تک کوئی حیض نہ آئے تو پھر تین ماہ تک عدت گزارے۔اگر پھر ان تین ماہ کے عرصہ میں اسے حیض آجائے تو پھر تیسرے حیض کی انتظار کرے۔لیکن اگر پھر اس انتظار میں نو ماہ گذر جائیں اور اسے تیسر حیض نہ آئے تو وہ پھر تین ماہ عدت گزارے۔اگر ان تین ماہ میں اسے تیسرا حیض آجائے تو اس کی عدت مکمل ہو گئی۔امام ابو حنیفہ اور امام شافعی اور جمہور کے نزدیک وہ عورت جس کو حیض آتے آتے بند ہو گیا ہو اور وہ ابھی حیض سے مایوسی کی عمر کو نہ پہنچی ہو تو وہ اس وقت تک انتظار کرے جب تک وہ اس عمر میں داخل ہو جائے جبکہ ایک عورت حیض سے مایوس ہو جاتی ہے۔اس کے بعد وہ تین ماہ عدت گزار کر آزاد ہوگی۔امام مالک نے اپنے مذہب کی بنیاد حضرت عمر بن الخطاب اور ابن عباس کے قول پر رکھی ہے اور جمہور نے اپنے مذہب کی بنیاد ابن مسعود اور زیڈ کے قول پر رکھی امام مالک کے مذہب کی دلیل یہ ہے کہ عدت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ رحم حمل سے صاف ہو جائے چونکہ کبھی حاملہ عورت کو بھی حیض آجاتا ہے