ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 182
IAP اس کی نیت نہ تو طلاق کی ہو نہ قسم کی بلکہ جوش میں آکر ایسے الفاظ کہہ دئے ہوں تو پھر اسے کوئی طلاق نہ پڑے گی بلکہ اس قول کو لغو قرار دیا جائے گا۔سوم - اوزاعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کی نیت کو ہی دیکھا جائے گا۔اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوگی تو ایک طلاق پڑیگی اور اگر نیت تین طلاقوں کی ہوگی تو تین طلاقین پڑینگی۔لیکن اگر کسی چیز کی بھی نیت نہ ہوگی تو اسے لغو کلام قرار نہیں دیا جائے گا بلکہ اسے کفارہ قسم ادا کرنا ہو گیا۔چہارم : امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کے متعلق دو باتوں میں اس کی نیت کو دیکھا جائے گا (1) نیت طلاق۔(۲) نیت تعداد طلاق۔پس جس قسم کی اس کی نیت ہوگی اسی کے مطابق عملدرآمد ہو گا۔اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوگی تو ایک رجعی طلاق ہوگی اور اگر غیر طلاق کے حرام قرار دینے کا ارادہ ہو گا تو اسے کفار قسم ادا کرنا ہوگا۔پنجم : امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب یہ ہے کہ ان الفاظ میں نیت وہ اپنی بات کے انجام کو سوچکر اس نتیجہ پر پہنچے کہ اسے قسم کے منشاء کے خلاف وہ کام کرنا چاہے یا نہیں کرنا چاہئے اور اس طرح وہ اس قسم کو توڑنا چاہے تو اس کے متعلق قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرماتا ہے :- لا يُؤَاخِذْ كُمُ اللهُ بِاللَّغُوتِ اَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذُ كُمْ بِمَا عقد تُمُ الأَيْمَانَ فَكَفَّارَتْهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ اهْلِيكُمْا وَيَسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ فَلَا خَةِ أَيَّامٍ ترجمہ :۔تمہاری قسموں میں سے لغو قسموں پر اللہ تعالیٰ تمہیں سزا نہیں دے گا۔بلکہ تمہاری پکی قسمیں کھانے اور پھر توڑ دینے پر تمہیں سزا دے گا۔پس اس کے توڑنے کا کفارہ دس مسکینوں کو متوسط درجہ کا کھانا کھلاتا ہے۔ایسا کھانا ہو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کا لباس یا ایک غلام کی گردن کا آزاد کرتا۔پھر جیسے یہ بھی میسر نہ ہو تو اس پر تین دن کے روزے واجب ہیں۔(مائده ع ۱۲) پس جس نے حرمت کے ان الفاظ کو قسم کا رنگ دیا ہے اس کے نزدیک قرآن مجید کے مذکورہ حکم کے مطابق قسم کا کفارہ اور کرتا ہوگا۔