ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 181
IMI اس روایت کے متعلق بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ رکانہ نے صریح الفاظ میں طلاق نہیں دی تھی بلکہ غیر صریح الفاظ میں دی تھی بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی نیت کا اظہار کیا تو آپ نے اس کی نیت کو تسلیم کر لیا اور اسے رجوع کی اجازت دے دی امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ ایسی طلاق جو کنائیہ دی جائے وہ ایک بائن طلاق ہوتی ہے۔کیونکہ کنائی طلاق سے اصل غرض کامل علیحدگی ہوتی ہے۔اور کامل علیحدگی ایک پائن طلاق سے ہو جاتی ہے۔تین طلاقوں کا مفہوم تو بائن طلاق میں اضافہ ہے اور یہ طلاق دینے والے کے مقصد سے خارج ہے۔طلاق کے الفاظ میں سے حرمت کے لفظ کے متعلق دور اول کے فقہار میں ایک مشہور اختلاف چلا آتا ہے۔پس اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو یہ کہے کہ تم مجھ پر ترام ہو۔تو اس کے متعلق اپنی یہ مجھ پر ہو تو فقہار کے متعدد اقوال منقول ہیں جو درج ذیل ہیں۔اول :- امام مالک کے نزدیک اگر بیوی سے تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں تو ان الفاظ سے اسے طلاق بتہ یعنی تین طلاقیں وارد ہونگی۔اور اگر تعلقات زومیت قائم نہیں ہوئے تو کہنے والے کی نیت کو دیکھا جائے گا۔اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوگی تو ایک اور اگر نیت تین طلاقوں کی ہوگی تو تین طلاقیں وارد ہونگی یہی قول ابن ابی لیلی - زید بن ثابت اور حضرت علیؓ کا ہے۔این ماجشون کا یہ مذہب ہے کہ اس کی نیت کو ملحوظ نہیں رکھا جائے گا بلکہ تمین طلاقیں پڑ جائینگی۔دوم : امام ثوری کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس کی نیت ایک طلاق کی ہوگی تو ایک بائنہ طلاق ہو گی۔اور اگر اس کی نیت تین طلاقوں کی ہوگی تو تین طلاقیں پڑ جائینگی۔لیکن اگر اس کی نیت طلاق کی نہ ہوگی، بلکہ بغیر طلاق کے قسم کے رنگ میں اس کو حرام قرار دیا ہے۔تو اسے قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔اگر ہ اگر کوئی شخص جوش میں آکر قسم کھائے کہ میں ایسا نہیں کروں گا یا ایسا ضرور کروں گا۔اس کے بعد جب ہا۔