ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 183 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 183

١٨٣ طلاق اور نیت تعداد کو ملحوظ رکھا جائے گا۔لیکن اگر کسی بات کی نیت نہ ہوگی تو اسے ایلاء قرار دیا جائے گا لیکن اگر نیت کذب بیانی کی ہوگی تو اسے لغو قرار دیا جائے گا۔ششم : حضرت عمر حضرت ابن مسعود اور ابن عباس اور بعض تابعین کا مذہب یہ ہے کہ یہ یمین یعنی قسم ہے اور اس پر قسم کا کفارہ ہے۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد ياتُهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَ اللَّهُ لَكَ سے استدلال کیا ہے۔ہفتم مسروق" اجدع " ابوسلم بن عبدالرحمن اور شعبی وغیرہ کا مذہب یہ ہے کہ ان الفاظ سے عورت کو حرام کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی پاکیزہ اور حلال چیز کو اپنے قول سے حرام قرار دیئے تو وہ حرام نہیں ہو سکتی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا اَحَلَّ اللَّهُ لَكُير وہ لوگ جو ان الفاظ کو قسم قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسے کفارہ نہ گرا دا کرنا ہو گا اور بعض کے نزدیک اسے غلام آزاد کرنا ہو گا۔که ایلا قرآن مجید کے محاورہ میں اس قسم کو کہتے ہیں جو اس بات پر کھائی جائے کہ مرد اپنی بیوی سے کوئی تعلق نہیں رکھے گا اس کے متعلق قرآن مجید میں ان الفاظ میں ذکر آیا ہے بلدین يُولُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُ وَافَانَ اللَّهَ غَفُورٌ رحيم۔ترجمہ : جو لوگ اپنی بیویوں کے متعلق قسم کھا کر ان سے علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں ان کے لئے صرف چار مہینے تک انتظار کرنا جائز ہے پھر اگر اس عرصہ میں صلح کے خیال کی طرف لوٹ آئیں تو اللہ تعالیٰ یقیناً بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔( بقروع ۲۸) اللہ تعالٰے کے اس ارشاد کے ماتحت امام ابو حنیفہ کے نزدیک بغیر نیت کے عورت کو حرام کر نیو الے قسم کا کفارہ نہیں ہو گا بلکہ اسے ایلاء قرار دیا جائے گا۔اور اس کے اس قول سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔ے ترجمہ : اے نبی ا تو اس چیز کو کیوں حرام کرتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے حلال کیا ہے دتحریم ع ) ترجمہ : اے ایماندارو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے حلال قرار دیا ہے اس میں پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ بھرا ہے تھ ظہار سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو ماں کی طرح حرام قرار دیدے اور با وجود خدا تعالیٰ کے منع اشیه صله اپر)