ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 96
94 ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ مطلق غلامی سے پہلا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔خواہ دونوں اکٹھے گرفتار ہو کر آئیں یا الگ الگ۔یہ مذہب امام شافعی اور ان کے اصحاب کا ہے۔امام مالک کے دو قول ہیں۔ایک قول یہ ہے کہ غلامی سے پہلا نکاح فسخ ہو جاتا ہے۔دوسرا قول یہ ہے کہ غلامی سے پہلا نکاح نہیں ٹوٹتا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس جواز یا عدم جواز کا سبب در حقیقت غلامی نہیں ہے۔بلکہ خاوند اور بیوی کا دوختلف حکومتوں کے ماتحت ہونا ہے پس جب وہ دونوں اکٹھے گرفتار ہوں گے تو ان کے درمیان دو مختلف حکومتوں کا بعد نہ رہے گا۔اس لئے نکاح قائم رہے گا۔لیکن جب یکے بعد دیگرے گرفتار ہوں گے تو ان کے درمیان دو حکومتوں کا بعد واقعہ ہو جائیگا۔اس لئے ان کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔دیگر فقہاء کے نزدیک اس جوانہ یا عدم جواز کا سبب غلامی ہے پس جب وہ کسی حالت میں بھی گرفتار ہو کر آئیں گے نکاح ٹوٹ جائے گا۔اس غلامی کے متعلق یہ امر قابل ذکر ہے کہ کیا شادی شدہ اور غیر شادی شدہ صورت میں کوئی فرق ہے ؟ ابن رشد اس کے متعلق یہ کہتے ہیں کہ جب محض غلامی کی وجہ سے ہی اس کے ساتھ تعلقات قائم کرنے جائز ہیں تو اس لحاظ سے اس کا شادی شدہ ہونے یا غیر شادی شدہ ہونے میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ ان تعلقات کے جواز کا اصل سبب تو کفر اور ر ملک ہے۔اور یہ دونوں حالتوں میں مساوی حیثیت سے موجود ہے۔کسی کا یہ کہتا کہ لونڈی کے ساتھ بغیر نکاح کئے تعلقات قائم کرنے کے جواز کا اصل سیب کفر ہے۔تو پھر وقتی لونڈیوں سے کیوں جائز نہیں ہے جبکہ کفر کا سبب ان میں بھی پایا جاتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اعتراض اس وجہ سے غلط ہے کہ وتی تو اے ابن رشد کا مذہب دلائل کے لحاظ سے زیادہ قومی معلوم ہوتا ہے۔سے وقتی سے مراد وہ غیر مسلم ہیں جوکہ مسلمانوں کی پناہ میں آجائیں اور اس کے عوض میں کچھ رقم بطور ٹیکس کے اور کریں۔