ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 97
94 جزیہ ہی اس لئے ادا کرتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پر قائم رہیں اور اپنی روایات کو قائم رکھیں۔پس جب ان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا جائز قرار دیا جا وے تو پھر ان سے جزیہ لینے کا کیا جواز باقی رہا۔حالت احرام محرم کے لئے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں فقہاء میں اختلاف ہے۔امام مالک شافعی۔لیث - اوزامی"۔اور احمد کا مذ ہب یہ ہے کہ محرم نہ کاج پڑھے بڑا اس کا نکاح پڑھا جائے۔اور اگر کوئی محرم ایسا کرے گا۔تو اس صورت میں نکاح باطل ہوگا۔صحابہ میں سے یہ مذہب حضرت عمر یہ حضرت علیؓ حضرت ابن عمر اور تریدین ثابت کا ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک محرم کے لئے نکاح کرنا جائز ہے۔وجه اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ اس بارہ میں مختلف روایات کا باہم تعارض ہے۔ان میں سے ایک روایت حضرت ابن عباس کی ہے کہ :۔ان رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ مَيْمُونَةً وَهُوَ عُمرم اس روایت کو صحیح بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔اور اسکی صحت پر اتفاقی ہے اس روایت کے خلاف بھی بہت سی روایات منقول ہیں۔اور وہ حضرت میمونہ سے مروی ہیں :- آنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَجَهَا وَهُوَ حَلَال اس روایت کے ہم معنی میمونہ سے ابو رافع سیلیمان بن یسار اور یزیدین الاصم نے بھی روایات نقل کی ہیں:۔ترجمہ : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا۔جبکہ آپ ایام کا میں محرم تھے صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم نکاح المحرم و كرامته خطبه کے ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت میمونہ سے) نکاح کیا اور اس وقت احرام کی طالبات میں نہ تھے۔(صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم نكاح المحرم و كراهته خلیفته)