ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 95
۹۵ الْمُؤْمِنَتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّنْ فَتَيْتِكُمُ الْمُؤْمِنت (نساء) اس سے معلوم ہوا کہ غیر مومن لونڈی کا نکاح جائز نہیں ہے اور قیاسی دلیل اوپر بیان ہو چکی ہے کہ اگر کتابیہ (لونڈی کو کتابیہ (آزاد) پر قیاس کیا جاوے تو اس سے نکاح جائز ہونا چاہیے۔کیونکہ قیاس یہ کہنا ہے کہ جس جگہ نکاح بذریعہ عقد جائزہ ہوگا وہاں نکاح بذریعہ تملیک بھی جائز ہونا چاہیئے۔جو لوگ کتابیہ (لونڈی سے نکاح کو جائز قرار نہیں دیتے وہ ایک دلیل یہ بھی دیتے ہیں کہ جب مسلمان لونڈی کا نکاح عام حالات میں جائزہ قرار نہیں دیا گیا۔بلکہ اس کے لئے بعض خاص شرائط لگا دی گئی ہیں۔مثلاً آزا د عورت سے نکاح کی توفیق نہ پاتا۔یا گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہونا۔یہ امر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کتابیہ (لونڈی سے تو بدرجہ اولی تکاح جائز نہیں ہونا چاہیئے۔اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ اپنی کتابیہ (لونڈی سے بغیر نکاح کے تعلقات قائم کرنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عمومی ارشاد إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ اس کی تائید کرتا ہے جس میں مملوکہ لونڈیوں کو حرمت سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔** •• اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ قید غلامی غیر شادی شدہ لونڈی سے تعلقات کو جائز کر دیتی ہے۔لیکن شادی شدہ لونڈی کے متعلق اختلاف ہے کہ کیا غلامی کی وجہ سے اس کا پہلا نکاح فسخ ہو جاتا ہے یا نہیں ؟ اگر فسخ ہو جاتا ہے تو کب ؟ ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ اگر خاوند اور بیوی دونوں اکٹھے قید ہو کر آئیں تو ان کا نکاح قائم رہتا ہے لیکن اگر وہ ایک دوسرے سے آگے پیچھے گرفتار ہو کر آئیں تو ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔یہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے۔ے اور جود کوئی تم میں سے آزا د مومن عورتوں سے شادی کرنے کی بالکل طاقت نہ رکھتا ہو۔وہ تمہاری ملوکہ عورتوں یعنی تمہاری مومن لونڈیوں میں سے کسی سے نکاج کرتے۔(نساء ہے)