ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 81 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 81

آیت قرانی یہ ہے۔وَأَمَّهُتُكُمُ التِي أَرْضَعْتَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةُ حدیث مندرجہ ذیل ہے۔جو حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔قَدْ جَاءَ أَفَلَمُ اخُو أَبِي الْقَعَيْسِ يَسْتَأْذِنَ عَلَى بَعْدَ أَنْ اُنْزِلَ الحِجَاب فَأَبَيْتُ أنْ أذَنَ لَهُ وَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فَقَالَ إِنَّهُ عَمُّكِ فَأُذِنِي لَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي المرأَةُ وَلَمْ يَرْضَعْنِي الرَّجُلُ فَقَالَ إِنَّهُ عَمَّكِ فَلْيَلِجُ عَلَيْكِ پس جس کے نزدیک حدیث مذکورہ میں آیت قرآنی سے زائد حکم پایا جاتا ہے اس کے نزدیک رضاعی باپ کے واسطہ سے بھی حرمت لازم آتی ہے۔آیت قرآنی کے علاوہ ایک روایت بھی ہے جو اس بارہ میں اصولی حکم کو بیان کرتی ہے اور وہ یہ ہے : يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ له پس جن کے نزدیک آیت قرآنی اور مندرجہ بالا روایت رضاعت کے حکم کو اصولی رنگ میں بیان کرتی ہے ان کے نزدیک اگر حدیث عائشہ کے مطابق عمل کیا جاوے ترجمہ : اور تم پر حرام کی گئی ہیں، تمہاری رضاعی مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعی نہیں انسار ) س ترجمہ: حضر عائشہ فرماتی ہیں کہ ابو القعیس کے بھائی آفلم نے آیت حجاب نازل ہونے کے بعد میرے پاس آنے کی اجازت چاہی لیکن کینے اسے اجازت نہ دی۔چنانچہ پینے اس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔وہ تمہارا چا ہی ہے کیونکہ وہ تمہارے رضائی باپ ابو الفعلیس کا بھائی ہے) اس لئے اسے آنے کی اجازت دیدو۔کینے عرض کی یا رسول اللہ مجھے دودھ تو ایک عورت نے پلایا ہے مرد نے نہیں۔آپنے فرمایا نہیں وہ تمہارا اچھا ہے اور وہ تمہارے پاس آسکتا ہے۔(ابو داؤد كتاب النكاح باب في لبن الفحل) سے جمہور فقہار کی رائے درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ حضرت عائشہؓ کی روایت صحاح ستہ نے بیان کی ہے اور یہ آیت قرآنی کے حکم کے مخالف نہیں ہے بلکہ اس کی تشریح کا رنگ رکھتی ہے لہذا یہ اعتراض کہ یہ روایت آیت قرآنی کو منسوخ کرتی ہے درست نہیں بلکہ اس روایت کی رو سے آیت کے مخصوص حکم میں عمومیت کا رنگ پایا جاتا ہے۔که ترجمه: رضاعت کی وجہ سے وہ تمام رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔2 ابو داؤد کتاب النکاح باب يحرم من الرضاعة ما يحرم من النسب ) !