ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 82
AN تو اس سے قرآن مجید کا بیان کردہ اصول منسوخ ماننا پڑے گا۔کیونکہ وہ زیادتی جو کسی حکم کو تبدیل کرنے والی ہو وہ اس حکم کی ناسخ ہوتی ہے۔واقعہ یہ ہے کہ خود حضرت عائشہ کا بھی یہ مذہب نہ تھا کہ رضاعی باپ کے واسطہ سے حیرت الله لازم آتی ہے حالانکہ وہ خود اس روایت کی راوی ہیں۔ابن رشد کہتے ہیں کہ ایسے اصول ہو کہ رائج ہوں ان کی تردید ایسی نادر روایات سے کرنا جو کہ کسی خاص موقعہ کے لئے وارد ہوئی ہوں۔مناسب معلوم نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر رض نے حضرت فاطمہ بنت قیس کی روایت کے متعلق فرمایا تھا کہ ہم اور کی کتاب کو ایک عورت کی روایت کی وجہ سے ترک نہیں کر سکتے۔رضاعت کے متعلق اختہار کے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اس میں دو عور توں شہادت کی گواہی معتبر ہے اور یہ مذہب امام شافعی اور عطاء کا ہے ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اس مسئلہ میں ایک عورت کی شہادت بھی مقبول ہوگی۔جن لوگوں کے نزدیک دو عورتوں کی گواہی معتبر ہے ان میں سے بعض ایسے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ یہ عورتیں اس بارہ میں گواہی دینے سے قبل اس کا اظہار عام کر چکی ہوں۔یہ مذہب امام مالک اور ابن القاسم کا ہے۔بعض ایسے ہیں جو یہ شرط نہیں لگاتے۔یہ مطرف اور ابن الماجشون کا مذہب ہے۔وہ لوگ جو اس بارہ میں ایک عورت کی گواہی کو معتبر قرار دیتے ہیں ان میں سے بھی بعض ایسے ہیں جو اس بات کی شرط عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی گواہی سے قبل اس امر کا اظہا یہ عام کر چکی ہو۔لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کے لئے یہ شرط ضروری نہیں ہے۔دو اور چار عورتوں کی شہادت میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ کیا ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کی شہادت اس جگہ بھی ضروری ہے جہاں مردوں کی شہادت ممکن نہیں ہے۔یا ایسے مواقع پر صرف دو یا ایک عورت کی شہادت ہی کافی ہے۔