ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 150 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 150

۱۵۰ وہ لوگ جو ابن عمرہ کی طلاق کو نافذ قرار نہیں دیتے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمومی ارشاد کو لیتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا :- كُلُّ فِعْلِ أَوْ عَمَلٍ لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَرَدُّ له اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن عمر کو ہر نوع کا ارشاد فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طلاق ناف ز نہ تھی۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک طلاق سنت کے لئے جو شرائط بیان کی گئی ہیں۔ان کے بغیر وہ طلاق صحیح نہیں ہوتی۔لیکن بعض کے نزدیک صحیح تو ہو جاتی ہے مگر مکمل نہیں ہوتی۔جن کے نزدیک ان شرائط کی عدم موجودگی میں وہ طلاق صحیح نہیں ہوتی۔ان کے نزدیک طلاق بدعت بھی نافذ نہیں ہوتی۔بلکہ وہ طلاق کا لعدم سمجھی جائے گی۔جن کے نزدیک ان شرائط کے بغیر وہ طلاق مکمل نہیں ہوتی۔ان کے نزدیک طلاق ا نافذہ تو ہو جائے گی لیکن ناقص یہ ہے گی۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ وہ رجوع کرے اور ان شرائط کی تکمیل کرے۔امر دوم یعنی اسے رجوع پر مجبور کیا جائے گا یا نہیں۔؟ اس کے متعلق جمہور کا خیال یہ ہے کہ ظاہر امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اسے رجوع پر مجبور کیا جائے گا۔لیکن بہن کے نزدیک یہ شرائط تکمیل ہیں ان کے نزدیک اسے رجوع پر مجبور نہ کیا جائے گا۔اتر سوم۔کہ رجوع پر مجبور کرنے کے بعد اسے طلاق کب دینی چاہئیے ؟ اس کے متعلق بعض کا خیال یہ ہے کہ جس حیض میں رجوع کرے۔اس کے بعد وہ پاک ہو پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو۔اب اس شہر میں اگر وہ اسے دوبارہ طلاق دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔کیونکہ ابن عمر کے واقعہ کے متعلق حدیث کے الفاظ اس پر لہ ترجمہ :۔وہ کام یا عمل جس کے متعلق ہمارا امر یک حکم نہ ہو وہ قابل رقہ ہے۔