ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 151
۱۵۱ نص ہیں۔اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ تا جس حیض میں طلاق واقع ہوئی ہے اس کے بعد آنے والے مہریں مجامعت کے ساتھ رجوع صحیح ہو جائے۔اب چونکہ اس طہر میں مجامعت ہو چکی ہے اس لئے اس میں طلاق نہیں دے سکتا۔کیونکہ طلاق اس جگر میں دینی چاہیئے جس میں مجامعت نہ ہوئی ہو۔لہذا اگلے مہر میں طلاق دے سکتا ہے۔وہ لوگ جو پہلے حیض کے بعد پہلے طہر میں طلاق کے قائل ہیں وہ یونس بن جیش اور سعید بن جبیر اور ابن سیرین کی روایت سے استدلال کرتے ہیں۔یہ روایت انہوں نے ابن عمر سے نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق یہ فرمایا تھا کہ ہت فَلْيُرَاجِعُهَا فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا إِنْ شَاءَ له اس روایت کے علاوہ عقلی دلیل یہ دیتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابن عمرہ کو رجوع کا حکم ان کے فعل کی سزا کے طور پر دیا تھا۔کیونکہ انہوں نے اسے ایسے وقت میں طلاق دی تھی جو مکروہ تھا پس جب وہ مگر وہ وقت گزر چکا تو اس کے بعد طلاق دینا جائز ہونا چاہیئے۔امر چہارم کہ اسے رجوع پر کب مجبور کیا جائے گا ؟ اس کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اسے عدت کے اندر رجوع کا حکم دیا جائے گا۔کیونکہ عدت کی طویل مدت اس لئے رکھی گئی ہے کہ تا اس میں رجوع کیا جائے۔اشہب اس حدیث کے ظاہر مفہوم کی طرف گئے ہیں۔یعنی جس حیض میں کہ ترجمہ :۔پس وہ رجوع کرے اس کے بعد جب اس کی بیوی حیض سے پاک ہو تو اس وقت اگر چاہے تو طلاق دے۔