ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 149 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 149

رجوع پر مجبور کیا جائے گا۔اور اشہب کے نزدیک صرف پہلے حیض میں رجوع پر مجبور کیا جائے گا۔وہ لوگ جو رجوع کو ضروری قرار دیتے ہیں ان میں پھر یہ اختلاف ہے کہ اس ر جموع کے بعد اگر وہ دوبارہ طلاق دینا چاہے تو کب دے سکتا ہے۔اس کے متعلق ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ رجوع کے بعد اسے اپنے پاس روکے رکھے یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہو جائے۔پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو۔اس کی بعد اگر چاہے تو شہر میں طلاق دے چاہے تو نہ دے۔یہ امام ابو حنیفہ اور کوفیوں کا مذہب ہے وہ لوگ جو طلاق سنت کے لئے بے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے طہر میں ہو جیں میں مجامعت نہ کی گئی ہو۔ان کے نزدیک اگر کوئی شخص ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے مجامعت کی ہو تو اسے رجوع پر مجبور نہ کیا جائے گا لیکن وہ طلاق سنت بھی نہ ہوگی۔مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس بارہ میں چار امور قابل تشریح ہیں۔اول۔کیا ایسی طلاق جو طلاق سنت نہ ہو واقع ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ دوم۔اگر واقع ہو جاتی ہے تو کیا اسے رجوع پر مجبور کیا جائے گا یا اس کے متعلق صرف تحریک کی جائے گی ؟ سوم۔تحریک کرنے کے بعد یا مجبور کرنے کے بعد طلاق کب واقع ہوگی ؟ چہارم۔جبر کب کیا جائے گا ؟ امر اول کے متعلق جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر طلاق حیض میں دی گئی ہو تو یہ طلاق واقع ہو جائے گی اور مطلقہ عورت اپنی عدت گزار کر آزاد ہو جائے گی۔کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرہ کو ابن عمر کے متعلق یہ ارشاد فرمایا تھا۔مرة فَلْيُرَاجِعُهَا یہ امر ظاہر ہے کہ رجعت صرف اس وقت ہوتی ہے جب طلاق واقع ہو چکی ہو۔