ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 140
۱۴۰ اسی طرح انہوں نے ابن اسحاق کی روایت سے استدلال کیا ہے جو حضرت ابن عباس رم سے مروی ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُكَافَةٌ زَوْجَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسِرٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهِ حَزَنَا شَدِيدًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ طَلَقْتَهَا قَالَ طَلَقْتُهَا ثَلَانَّا فِي مَجْلِسِ وَاحِدٍ قَالَ إِنَّمَا تِلكَ طَلقَةٌ وَاحِدَةً فَارْتَجِعُهَا جمہور فقہار ان دلائل کا یہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت ابن عباس کی روایت جو بخاری اور مسلم میں منقول ہے اور اس کو ابن عباس کے اصحاب میں سے طاؤس نے بیان کیا ہے۔اس کے متعلق خود حضرت ابن عباس کے اصحاب کا یہ بیان ہے کہ ابن عباس کا اپنا مذہب اس روایت کے خلاف تھا۔اور وہ بیک وقت تین طلاقوں کو تین متفرق طلاقوں کے قائمقام سمجھتے تھے۔ان اصحاب کے اسماء یہ ہیں۔سعید بن جبیر مجاہد عطال عمرو بن دینار روایت ابن اسحاق کا وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ واقعہ درست نہیں ہے کیونکہ بعض ثقہ راویوں نے بیان کیا ہے کہ رکا نہ نے اپنی بیوی کو متفرق اوقات میں تین طلاقیں دی تھیں نہ کہ بیک وقت تین طلاقیں۔وجه اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ یہ امر قابل تحقیق ہے کہ شریعت نے جو تین طلاقوں کی وجہ سے بائن ہونے کا حکم صادر فرمایا ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان نے اپنے اوپر خود اس حکم کو لازم کرنے کی کوشش کی ہے ؟ یا انسان پر صرف وہی حکم لازم آتا ہے جو شریعت نے اپنے دائرے کے اندر منظرر فرمایا ہے ا ترجمہ : حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رکا نہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی وقت میں تین طلاقیں وہیں۔اس کے بعد رکانہ کو سخت ریخ ہوا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ تم نے اپنی بیوی کو طلاق کس طرح دی تھی اس نے بتایا کہ لینے ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دی تھیں۔آپ نے فرمایا کہ یہ ایک ہی طلاق ہے اس لئے تم رجوع کر لو۔ابو داؤد باب نسخ المراجعة بعد التعليقات الثلث )