ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 139
۱۳۹ واقع ہو جاتی ہے۔اس سے مراد خاوند کی غلامی ہے یا بیوی کی یا دونوں میں سے کسی ایک کی۔چنانچہ ان کی تشریح کے لئے اس باب میں تین امور بیان کئے گئے ہیں۔دا) بیک وقت تین طلاقیں۔(۲) غلامی میں طلاق۔(۳) غلامی کے باعث تعداد طلاق میں کمی۔بیک وقت تین طلاقیں جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ بیک وقت تین طلاقوں کا حکم بھی تین متفرق طلاقوں کی طرح ہے۔اہل ظاہر اور ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ اس کا حکم ایک طلاق کی طرح ہے۔ان کا استدلال آیت طلاق کے ظاہر معنی سے ہے جو یہ ہے :- الطَّلَاقُ مَرَّتن۔۔۔۔۔۔فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَة (بقره ) ان کے نزدیک اس آیت کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ طلاق تین دفعہ ہو سکتی ہے اور ایک لفظ سے تین طلاقوں کا حکم ایک طلاق کے برابر ہے۔نیز اس کی تائید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد بھی پیش کیا جاتا ہے۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ كَانَ الطَّلَاقُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ علَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ واحِدَةٌ فَامْضَاهُ عَلَيْهِ عُمَرُه ه ترجمه: حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر کی خلافت میں اور حضرت عمر کی خلافت کے پہلے دو سال تک ایک وقت میں دی ہوئی تین طلاقوں کا حکم ایک طلاق کے برابر تھا۔لیکن اس کے بعد حضرت عمرہ کے حکم سے یہ قرار پایا کہ ایسی تین طلاقیں تین ہی سمجھی جائینگی۔(مسلم باب طلاق الثلاث )