ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 123
١٢٣ نہیں۔اور کیا باری کے لحاظ سے ان دونوں کے درمیان کوئی فرق کیا جائے گا یا نہیں۔امام مالک شافعی۔اور ان کے اصحاب کے نزدیک رخصتانہ کے بعد باکرہ کے پاس سات دن قیام کرے۔اور ثیبہ کے پاس تین دن۔اور یہ ایام اس کی باری میں شمار نہ ہوں گے لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس بارہ میں باکرہ اور ثیبہ دونوں برا بر ہیں۔اور قیام کے یہ ایام باری میں شمار ہوں گے۔وجہ اختلاف | اس اختلاف کا سبب دور وایتوں کا آپس میں تعارض ہے۔ایک روایت حضرت انس سے ان الفاظ میں مروی ہے :- انَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَزَوَّجَ البكر أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا وَإِذَا تَزَوَّجَ الشَّيْبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَائًا دوسری روایت حضرت ام سلمہ نے بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے:۔انَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَجَهَا فَاصْبَحَتْ عِنْدَهُ فَقَالَ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانَّ إِنْ شِأْتِ سَجَعْتُ عِندَكِ وسبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ نَلَثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ فَقَالَتْ ثلث حضرت ام سلمہ کی یہ روایت مدنی ہے۔اور اس کو امام مالک نے موطاء میں سه ترجمه: - حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باکرہ عورت سے شادی کرتے تو اس کے پاس سات یوم تک قیام فرماتے۔اور جب شیبہ کے ساتھ شادی کرتے تو اس کے پاس تین دن تک تعلیم فرماتے۔(ابو داؤد باب في المقام عند البكر ) سے حضرت ام کلمتہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی وہ آپ کے پاس صبح کے وقت گئیں تو آپ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ کسی قسم کی بے انصافی نہ کی جائے گی جس سے تمہارے گھر والے ذلت محسوس کریں۔اگر تم پسند کرو تو میں تمہارے پاس بھی سات دن ٹھہروں۔اور دوسری بیویوں کے پاس بھی اتنے ہی دن۔اور اگر تم چاہو تو تمہارے پاس بھی تین دن ٹھہروں۔اور ان کے پاس بھی تین دن۔چنانچہ وہ آپ کی بات سمجھ گئیں۔اور کہنے لگیں کہ تین ون ٹھیک ہوا۔اس روایت کو ترندی کے سواء باقی صحاح نے نقل کیا ہے۔بحوالہ منتقی جلد )