ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 124 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 124

۱۲۴ نیر بخاری اور سلم میں بیان کیا گیا ہے۔اور حضرت انسؓ کی روایت بصری ہے اس کو ابو داؤد نے نقل کیا ہے۔اس لحاظ سے اہل مدینہ نے اہل بصرہ کی روایت کے مطابق عمل کیا۔اور اہل کو فہ نے اہلِ مدینہ کی روایت کو ترجیح دی۔امام مالک کے اصحاب نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ باکرہ کے پاس سات یوم ٹھہرنا اور ثیبہ کے پاس تین یوم ٹھہرنا واجب ہے یا مستحب؟ ابن القاسم کے نزدیک یہ واجب ہے۔اور ابن الحکم کے نزدیک تحب ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس بارہ میں اختلاف ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی اتباع کرنا واجب ہے یا مستحب۔جن کے نزدیک واجب ہے وہ اسے واجب قرار دیتے ہیں۔اور جن کے نزدیک آپ کے عمل کی اتباع مستحب ہے وہ اسے مستحب قرار دیتے ہیں۔بیوی پر خاوند کے گھر کی خدمت اور اس کے بچوں کو دودھ پلانا واجب ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں اختلاف ہے۔فقہاء کے ایک گروہ کے نزدیک عورت پر دودھ پلانا واجب ہے۔اور ایک گروہ کے نزدیک اعلیٰ خاندان کی عورت پر دودھ پلانا واجب نہیں ہے لیکن متوسط اور ادنی خاندان کی عورت پر بچوں کو دودھ پلانا واجب ہے اور اگر بچہ اپنی ماں کے علاوہ کوئی اور دودھ نہ پیئے۔اس صورت میں خاندانی تفریق نہ ہوگی۔یہ امام مالک کا مشہور قول ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک آیت رضاعت میں امر کا صیغہ وجوب پر دلالت کرتا ہے۔اور بعض کے نزدیک یہ امر وجوب پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ اس میں وجوب کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی۔نے اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ امراء کی عورتیں بچوں کو اپنا دودھ پلانا پسند نہ کرتی تھیں اور وہ اس کے لئے دودھ کی آباد کھتی تھیں۔اس بار پر بعض فقہاء نے امراء کے خاندان کی عورتوں پر دودھ پلانا واجب قرار نہیں دیا۔