ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 122
۱۲۲ واجب قرار دیتے ہیں۔لیکن اصحاب مالک میں سے ابو المصعب کہتے ہیں کہ اس پر نفقہ واجب نہیں ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب عمومی حکم اور قیاس میں باہم تعارض ہے عمومی حکم اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ غلام اور آزاد دونوں پر اپنی بیوی بچوں کا نفقہ واجب ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے۔قیاس یہ کہتا ہے کہ غلام پر نفقہ واجب نہیں ہے۔کیونکہ غلام اپنے کمائے ہوئے مال کا مالک نہیں ہے۔نہ اس میں تصرف کر سکتا ہے۔اس لئے اس پر بیوی بچوں کا نفقہ بھی واجب نہیں ہونا چاہیئے۔غائب کے متعلق جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس پر نفقہ واجب ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ جب تک حاکم وقت اس کے ذمہ نفقہ واجب نہ کرے اس کے حال سے اس کی بیوی کو نفقہ نہ دیا جائے۔اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ بیویوں کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا جائے۔یعنی جب ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان سب کے در میان عدل کیا جائے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عدل فرمایا کرتے تھے۔چنانچہ آپ اس کے متعلق فرماتے ہیں۔إِذَا كَانَتْ لِلرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَاَحَرُ شِقَيْهِ مَائِلٌ اسی طرح آپ سے یہ امر بھی ثابت ہے کہ آپ جب سفر پر جاتے تھے اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۔جس کا قرعہ نکل آتا اسے سفر میں اپنے ہمراہ لے جاتے۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ باکرہ اور ثیبہ کے حقوق میں کوئی فرق ہے یا کے ترجمہ: جب کسی شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کی طرف (اپنے ظاہر سلوک میں ) مائل ہو تو قیامت کے روز وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ایک طرف مائل ہو گا۔رابو داؤد کتاب النکاح باب في القسم بين النساء