ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 48
لونڈی کی آزادی کو حق مہر قرانہ دینے کے متعلق دائود اور احمد کے سوا تمام فقہاء نے یہ فتوی دیا ہے کہ یہ نا جائز ہے۔وجہ اختلاف | اس اختلاف کی وجہ ایک روایت ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ کی آزادی کو اس کا حق ہر قرار دیا۔لیکن اس روایت کے متعلق یہ احتمال ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہو۔کیونکہ نکاح کے بارہ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی بہت سی خصوصیات مروی ہیں۔یہ روایت ایک اصول کے بھی خلاف ہے اور وہ یہ ہے کہ عشق تو غلام کو اپنی ملک سے آزاد کرنا ہے۔پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعہ کسی کو پابند کر کے اپنے لئے مباح اور مخصوص کر لیا جائے۔کیونکہ جب وہ آزاد ہو گئی تو وہ اپنے نفس کی خود مالک ہے اس کے بعد اسے نکاح کے لئے پابند کس طرح کیا جا سکتا ہے۔کیا آزادی بمعنی پابندی کسی صورت میں بھی درست ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر کسی عورت کو نکاح کے لئے آزاد کیا جائے۔اور وہ آزاد ہونے کے بعد نکاح سے انکار کر دے تو اسے اپنی آزادی کی قیمت ادا کرنی چاہیے کیونکہ اس کے مالک نے اس کے ساتھ نکاح کرنے کی خاطر ہی یہ نقصان اٹھایا کہ اسے آزاد کر کے اس کے منافع سے محروم ہو گیا۔اب جبکہ اس عورت نے مالک کی نیت کے مطابق نکاح کا فائدہ نہ پہنچایا تو اسے اس کا معاوضہ ادا کرنا چاہیئے۔جو لوگ اسے جائز قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ امر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لئے ناجائز ہوتا تو آپ اس وقت یہ بیان فرما دیتے کہ امت کے لئے یہ صورت جائز نہیں ہے۔کیونکہ جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فصل کے متعلق کوئی ایسی دلیل قائم نہ ہو جائے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ آپ کی خصوصیت ہے اس وقت تک آپ کے ہر فعل کی اتباع لازم ہے۔حق مہر کی حق مہریں ہر وہ حلال چیز ادا کی جا سکتی ہے میں کی صفت یا مقدار بیان کرکے صفت اس کی تعیین کر دی گئی ہو۔