ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 49
۴۹ جو چیز غیر معین ہو اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ لینے فلاں عورت سے ایک غلام کے عوض نکاح کیا تو چونکہ اس نے غلام کی صفت بیان نہیں کی اس لئے اس کی تعیین نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کی قیمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس کے متعلق امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک نا جائز ہے۔امام مالک کے نزدیک ایسی صورت میں اوسط درجہ کا غلام دیا جائے گا۔اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک بعد میں اس سے قیمت معین کرائی جائے گی۔اس اختلاف کی بنا یہ ہے کہ کیا نکاح بیچ کی مانند ہے جس میں ایک معین قیمت ادا کر کے کوئی چیز خرید لی جاتی ہے یا یہ عوض رحق مہر محض تکریم اور اعزاز کی خاطر ہے۔جن کے نزدیک یہ بیچ کے مشابہ ہے وہ اسے ناجائز قرار دیتے ہیں کیونکہ بیچ میں قیمت کا معین ہونا ضروری ہے۔جن کے نزدیک یہ محض اعزاز کے لئے ہے وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔حق مہر مؤجل فقہاء کا ایک گروہ موجل حق مہر کو جائز قرار نہیں دیتا لیکن بعض کے نزدیک یہ جائز ہے۔امام مالک کے نزدیک منتخب طریق یہ ہے کہ تعلقات زوجیت قائم کرنے سے قبل اپنی بیوی کو حق مہر کا کچھ حصہ ادا کر دیا جائے۔وہ لوگ جو ہر موجل کو جائز قرار دیتے ہیں ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو اس بات کا قائل ہے کہ جہر مؤجل کے لئے به ضروری ہے کہ ادائیگی کی مدت کی تعیین پہلے سے کرلی جائے۔یہ امام مالک کا مذہب ہے۔بعض کے نزدیک ادائیگی مہر کے لئے کسی مدت کی تعیین کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خاوند اپنی موت یا علیحدگی تک ادا کر سکتا ہے۔یہ اوزاعی کا مذہب ہے۔اے مہر موجل سے مراد وہ مہر ہے جو نکاح کے وقت نقدا وا نہ کیا جائے بلکہ ادائیگی کے لئے کوئی مدت مقرر کر کی جائے یا مدت مقرر کئے بغیر بعد میں کسی وقت ادا کر دیا جائے۔