ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 44 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 44

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ان ارشادات میں الْتَمِسُ وَلَوْ خَارِمَا مِنْ حَدِید کے الفاظ اس امر کی دلیل ہیں کہ حق مہر میں قلیل مقدار کی کوئی حد نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی اقل مقدار ہوتی تو آپ اس موقعہ پر ضرور بیان فرماتے۔کیونکہ ضرورت کے وقت تاخیر بیان جائز نہیں ہے۔یہ استدلال نہایت واضح ہے اس کے مقابلہ میں جو قیاس بیان کیا گیا ہے اس کے مقدمات بھی مسلم نہیں ہیں۔کیونکہ یہ قیاس دو مقدمات پر مبنی ہے۔اقول : حق مہر ایک عبادت ہے۔دوم عبادت موقت ہوتی ہے۔ان ہر دو مقدمات میں نزاع ہے کیونکہ بعض ایسی عبادات موجود ہیں جو موقت نہیں ہوتیں جس پر عبادت کا قلیل ترین مفہوم بھی صادق آتا ہے اس کو عبادت میں شامل کر لیا جاتا ہے۔نیز اس میں خالص عبادات کے ساتھ مشابہت بھی نہیں پائی جاتی۔جن لوگوں نے قیاس کو اس روایت پر ترجیح دی ہے انہوں نے یہ ترجیح اس احتمال پر دی ہے کہ یہ روایت خاص اس شخص کے متعلق ہے کیونکہ روایت کے الفاظ قد انگختكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ اس امر کی دلیل ہے۔لیکن یہ قیاس درست نہیں ہے۔اگر چہ بعض روایات میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں۔قَالَ تُمْ فَعَلَيْهَا فَقَامَ فَعَلَيْهَا گویا ان الفاظ سے یہ ظاہر ہوا کہ نکاح بھی ایک قسم کا اجارہ ہے جو ایک معین معاوضہ کے عوض حاصل ہوتا ہے۔جس اصل پر اس قسیم کا قیاس کیا گیا ہے اگر اس پر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اصل اور فرع میں کسی قسم کی مشابہت نہیں۔اور قیاس کے لئے یہ امر ضروری ہے کہ اصل اور فرع میں مشابہت ہو۔اس قیاس کی اصل یہ ہے کہ کسی عضو کے کاٹنے کے لئے کم از کم مال مسروقہ کی جو مقدار مقرر ہے۔حق مہر کی کم سے کم مقدار بھی اسی قدر ہونی چاہیئے کیونکہ حق مہر کے ذریعہ لہ ترجمہ : میں نے تمہارا نکاح اس صورت کے ساتھ اس قرآن کے عوض کر دیا جو تمہیں یاد ہے۔ترجمہ : رجب اس شخص نے بتایا کہ مجھے فلاں فلاں سورۃ یا د ہے تو آپ نے فرمایا۔اٹھو اور اس عورت کو یہ سورتیں سکھاو۔چنانچہ وہ سورتیں اسے سکھا دیں۔