ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 42 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 42

۴۲ اور اس کے بغیر تعلقات زوجیت قائم کرنا جائز نہیں ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وأتُوا النِّسَاءَ صَدَّقْتِهِنَّ نِحْلَةً نساء اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَانكِحُوهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ اُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُونِ حق مہر کی مقدار اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ حق مہر کی اکثر مقدار کی کوئی حد نہیں ہے لیکن اقل مقدار میں فقہاء کا اختلاف ہے۔امام شافعی - احمد اسحق ابوثور" اور فقہاء مدینہ اس بات کے قائل ہیں کہ اقتل - مقدار کی بھی کوئی حد نہیں ہے اور ہر وہ مقدار جو کسی چیز کی قیمت بن سکتی ہے وہ عورت کا حق مہر بھی بن سکتی ہے۔ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ اقل مقدار کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے اگرچہ اس حد کی تعیین میں اختلاف ہے امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ اقل مقدار پر دینا ر ہے۔امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اقل مقدار دشش درہم ہے۔اور ایک مذہب یہ ہے کہ اقل مقدار پانچ درہم ہے۔اور ایک اور مذہب کے مطابق چالیس درہم۔سبب اختلاف | یہ اختلاف اس بنا پر ہے کہ آیا حق مہر بھی ایک عوض ہے جو کہ فریقین کی رضا مندی سے کم و بیش مقدار پر طے ہو سکتا ہے۔جیسا کہ بیچ میں کسی چیز کی قیمت بائع اور شتری کی باہمی رضامندی سے کم و بیش ہو سکتی ہے۔یا یہ ایک عبادت ہے جس میں فریقین کو کوئی دخل نہیں ہے۔اس لحاظ سے کہ خاوند حق مہر کی وجہ سے اپنی بیوی کے منافع کا حقدار ہو جاتا ہے اسے بیچ کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔اور اس لحاظ سے کہ اس عوض کو فریقین کی باہمی رضا مندی سے بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا۔اس کو عبادت قرار دیا گیا ہے۔لے ترجمہ: اور تم عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دور نسار غ) ترجمہ :۔تم ان سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور تم انکو ان کا ہر دستور کے مطابق ادا کر دنمارستان دینار اور درہم اس زمانہ کے ستوں کا نام ہے۔وہ ہم اس زمانہ کے سنگتے کے لحاظ سے اندازا چوٹی کے برابر۔اور دینار انداز اوسش روپے کے برابر بنتا ہے اس لحاظ سے یہ ویار اندازاً اڑھائی روپے کے برابر بنتا ہے۔