ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 41 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 41

۴۱ امام شافعی کے نزدیک شہادت کے دو مقصد ہیں (۱) اعلان نکاح (۲) قبول نکاح کی تصدیق۔یہی وجہ ہے کہ ان کے نزدیک عادل گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔امام مالک کہتے ہیں کہ گواہوں کے وجود سے اعلان نکاح کی غرض پوری نہیں ہوتی کیونکہ اگر گواہوں کو گواہی چھپانے کی ہدایت کی گئی ہو تو اس صورت میں گواہوں کی گواہی تو موجود ہے۔لیکن اعلان نکاح کی غرض پوری نہیں ہوتی۔شرط اعلان کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اصل بنیاد ہے۔اعْلِتُوْا هُذَا النِّكَاحَ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّ فُوْنِ نه اسی طرح ایک ایسے نکاح کے متعلق جس میں وقت کے ذریعہ سے اعلان نہ کیا گیا تھا حضرت عمر نے ارشاد فرمایا :- هذا نگام اسرِ وَلَوْ تَقَدَّمُتُ فِيهِ لَرَجَمتُ موطاء باب لا يحل نكاح الشتر) ابو ثور اور فقہاء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ گواہان کی موجودگی نکاح کے لئے شرط نہیں ہے اور حضرت حرج بون علی کا فعل بھی اسی پر دلالت کرتا ہے کیونکہ ان کے متعلق یہ روایت ہے کہ انہوں نے بغیر گواہوں کے نکاح کیا اس کے بعد نکاح کی تکمیل کا اعلان کیا۔نکاح کی تیسری بنیادی شرط حق مہر اس باب میں مختلف مسائل بیان کئے جائینگے جن کی تفصیل اپنے اپنے مقام پر آئیگی انشا اللہ حق مہر کا حکم اس پر سب کا اتفاق ہے کہ حق مہر کا تقرر صحت نکاح کے لئے ضروری ہے؟ کے ترجمہ : نکاح کا اعلان کرو۔خوب اعلان کرو۔اور خوب اعلان کرنیکے لئے اس موقع پر بیشک تو بجاؤ ه ترجمه ی خفیہ کال ہو اگر کیتے اس قسم کے نکاح کے متعلق پہلے سے اعلان کیا ہوتا تو میں نکاح کرنے والے کو ریم کرواتا۔و موطاء امام مالک باب لایجل نکاح السر) نوٹ : حضرت عمر فہ کا یہ ارشاد اس نکاح اور اُس وقت کے حالات کے مطابق تھا۔ممکن ہے کہ اس نکاح کے متعلق آپکے پاس کوئی اعتراض پہنچا ہو۔اس لئے آپ نے اس کے متعلق سختی سے ارشاد فرمایا۔آج کل کے حالات میں اعلان کے کئی متعارف طریقی موجود ہیں۔جیسا کہ اخبار میں اعلان یا لاؤڈ سپیکر کے ذریع سے اعلان وغیرہ ذلک بپس زمانہ کے حالات کے مطابق اعلان کا جو بھی متعارف طریق ہو اس کے مطابق اعلان کر دینا کافی ہے۔آجکل دف کے ذریعہ اعلان ضروری نہیں اور اگر ایسا کیا جائے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔