ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 40 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 40

۴۰ جب تک نکاح کے وقت گواہوں کی گواہی نہ ہو۔اس امر پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ خفیہ نکاح جس میں کوئی گواہ نہ ہو جائز نہیں ہے۔لیکن اس بارہ میں اختلاف ہے کہ اگر نکاح کے گواہ تو ہوں لیکن ان کو گواہی خفیہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہو تو پھر کیسا صورت ہوگی۔امام مالک کے نزدیک ایسا نکاح خفیہ نکاح کے حکم میں ہے اس لئے ناجائز ہے لیکن امام ابو حنیفہ اور امام شافعی کے نزدیک یہ خفیہ نکاح نہیں ہے اس لئے جائز ہے۔اس اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ آیا شہادت کا حکم شرعی حکم ہے یا محض اس لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ تا فریقین میں سے کوئی فریق عقد نکاح سے انکار نہ کر سکے۔جن کے نزدیک یہ شرعی حکم ہے ان کے نزدیک صحت نکاح کے لئے شہادت کا پایا جانا ضروری ہے۔اور جو لوگ اسے محض ضمانت ہی قرار دیتے ہیں وہ اسے تکمیل نکاح کی حد تک ضروری قرار دیتے ہیں۔اس بارہ میں اصل الاصول وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔کہ : - لا نكاح الا بِشَاهِدَى عَدْلٍ وَ وَلِي مُرْشِيله صحابہ میں سے کسی نے اس روایت کا انکار نہیں کیا اور اکثر علماء کے نزدیک یہ اجماع سے ثابت ہے لیکن ابن رشد کے نزدیک یہ خیال ضعیف ہے۔اس روایت کے متعلق دارقطنی نے لکھا ہے کہ یہ مرفوع ہے۔البتہ اس کی سند میں ایسے راوی بھی ہیں جن کے حالات کا پوری طرح علم نہیں ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک دو فاسق گواہوں کی موجودگی میں بھی نکاح صحیح ہو جاتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک شہادت سے اصل غرض تو اعلان نکاح ہے اور یہ غرض دو فاسق گواہوں سے بھی پوری ہو جاتی ہے۔ترجمہ : نکاح اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک اس میں دو عادل گواہ اور سمجھ دار ولی ہو۔سے ایسی سند کو اصطلاح میں مجہول کہتے ہیں۔