ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 39 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 39

۳۹ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ہر مثل بھی کفو میں شامل ہے۔احکام ولایت کے ساتھ ایک اور مشہور مسئلہ کا خاص تعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ کیا ولی۔کو اختیار ہے کہ وہ زیر ولایت لڑکی کا نکاح اپنے ساتھے کر لے ہے امام شافعی نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے وہ اس اختیار کو حاکم اور شاہد کے اختیارا پر قیاس کرتے ہیں۔یعنی جس طرح حاکم اپنے نفس کے لئے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا اور شاہد اپنے نفس کے لئے گواہی نہیں دے سکتا اسی طرح ولی بھی اس لڑکی کا نکاح اپنے ساتھ نہیں کر سکتا جس کی ولایت کے اختیارات اسے دیئے گئے ہوں۔امام مالک نے اس کو جائز قرار دیا ہے۔اور وہ اس کے جواز میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے بغیر ولی کے نکاح کیا تھا۔کیونکہ اس کا بیٹا اس وقت نابالغ تھا۔اسی طرح آپ نے حضرت صفیہ کو آزاد کیا اور آپ کی آزادی کو مہر قرار دے کر اپنے ساتھ نکاح کر لیا۔اس کے متعلق امام شافعی کا جواب یہ ہے کہ یہ صرف آپ کی خصوصیت تھی اور دلیل خصوصی جمہور مسلمانوں کے خلاف حجت نہیں ہو سکتی۔نکاح کی دوسری بنیادی شرط شہادت امام ابو حنیفہ - شافعی اور امام مالک اس پر متفق ہیں کہ شہادت نکاح کے لئے شرط ہے۔اختلاف صرف اس بارہ میں ہے کہ یہ شرط تکمیل نکاح کے لئے ہے یا صحت نکاح کے لئے۔تکمیل نکاح کی شرط ہونے کی صورت میں نکاح تو ہو جاتا ہے لیکن ناقص رہتا ہے۔اور تعلقات نہ وجیت قائم کرنے سے قبل گواہان کی گواہی کی تکمیل ضروری ہے۔صحت نکاح کی شرط قرار دینے کی صورت میں نکاح اس وقت تک ہوتا ہی نہیں ہے الے لڑکی کے جن مفاد کی حفاظت ولی کے سپرد ہے ان کے پیش نظر زیادہ صحیح امام شافعی کا مسلک معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ ولی اگر اپنے ساتھ نکاح کرلے گا تو دوسروں کو موقع دے گا کہ وہ بدھنی سے کام لیتے ہوئے یہ اعتراض کریں کہ ولی نے لڑکی کے مفاد کو ملحوظ نہیں رکھا بلکہ صرف اپنا فائدہ سوچا ہے۔