ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 38
۳۸ بنا پر بعض لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ صرف دین ہی کفو میں شمار ہوتا ہے لیکن بعض کہتے ہیں کہ حسب اور مال کے الفاظ میں بھی دین کا مفہوم شامل ہے پس اس روایت میں جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں وہ کفو سے خارج نہیں ہو سکتے سوائے اس کے کہ اس کے متعلق فقہاء کا اجماع ہو۔جیسا کہ حسن کے متعلق جملہ فقہاء کا اتفاق ہے کہ یہ ان اوصاف میں سے نہیں ہے جو گفو کے لئے ضروری قرار دیئے گئے ہیں۔وہ لوگ جو اس بات کے قائل ہیں کہ زوجین میں کسی عیب کی وجہ سے نکاح نہیں کرنا چاہیے وہ صحت کو بھی گفو کے اوصاف میں شمار کرتے ہیں کیونکہ بیماری ایک عیب ہے اور اس کے مقابلہ میں صحت خوبی ہے۔اس لحاظ سے حسن بھی ایک رنگ میں کفو کے اوصاف میں شمار ہوگا کیونکہ بدصورتی بھی ایک حبیب ہے۔اس بارہ میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اگر زوج تنگدست ہوا اور نفقہ پر قادرنہ ہو تو بیٹی اپنے باپ کے کرائے ہوئے نکاح کو فسخ کرواسکتی ہے۔اس لحاظ سے مال بھی کھو کے اوصاف میں سے شمار ہوتا ہے۔لیکن امام ابو حنیفہ کمال کو ان اوصاف میں شمار نہیں کرتے۔حریت کے متعلق بھی عام اتفاق ہی ہے کہ یہ کفو میں شامل ہے کیونکہ سنت سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزادشدہ لونڈی کو اپنا نکاح فسخ کرنے کا اختیار دیا۔مہر مثل سے متعلق امام شافعی اور امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ یہ کفو میں شامل نہیں ہے۔اور باپ کو یہ اختیار ہے کہ وہ ہرشل سے کم پر اپنی لڑکی کا نکاح کر دے۔اسی طرح بیوہ اگر مہر شکل سے کم پر راضی ہو تو اولیاء کو اس پر اعتراض کا حق حاصل نہیں ہے۔لے حریت کے معنے آزادی کے ہیں جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے اب چونکہ غلامی قانوناً کسی ملک میں بھی جائز نہیں ہے اس لئے غلامی اور حریت کے احکام موجودہ زمانے سے متعلق نہیں ہیں۔ے مہر نسل سے مراد ہر کی وہ مقدار ہے جو عام طور پر کسی لڑکی کے خاندان کی عورتوں کے نکاح میں ملحوظ رکھی جاتی ہے۔