ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 32 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 32

۳۲ (1) اولیاء کی اقسام ولایت نکاح کے لئے مندرجہ ذیل خصوصیات کا پایا جانا ضروری ہے ، قرابت نسبی (۲) اختیار حکومت (۳) اختیار ملکیت۔(ہی) وصی - (۵) وکالت ترتیب ولایت ترتیب ولایت میں اختلاف ہے۔امام مالک کے نزدیک تمام عصبات ولی ہیں۔اور جو قریبی عصبہ ہو گا وہ ولایت کا زیادہ حقدار ہوگا۔مثلاً بیٹے اور پوتے سب سے اولیٰ ہیں۔ان کے بعد باپ۔پھر حقیقی بھائی۔پھر باپ کی طرف سے بھائی۔پھر حقیقی بھائی کے بیٹے پھر باپ کی طرف سے بھائی کے بیٹے۔پھر دادا - ابو مغیرہ کے نزدیک باپ اور دادا بہ نسبت بھائی اور بھتیجے کے زیادہ قریب ہیں پھر چھے۔پھر حاکم وقت۔امام شافعی کے نزدیک بیٹے ولی نہیں بن سکتے۔اسی طرح بھائی دادا سے فائق نہیں ہو سکتے۔امام مالک کی ایک روایت یہ ہے کہ باپ بیٹے سے اولیٰ ہے۔اور ابن رشہر کے نزدیک یہ خیال درست ہے۔اسی طرح امام مالک کی ایک روایت کے مطابق دادا بھائی سے اولیٰ ہے اور یہی مغیرہ کا مذہب ہے۔امام شافعی کے نزدیک بیٹا عصبہ نہیں ہے۔اس لئے وہ ولی بھی نہیں ہو سکتا ان کا استدلال حضرت عمرہ کی مندرجہ ذیل روایت سے ہے کہ لَا تُنْكَمُ الْمَرْآةُ إِلَّا بِاذْنِ وَلِيهَا أوذي الرأْيِ مِنْ أَهْلِهَا أَو السُّلطَانِ ے وکیل اور وصی میں یہ فرق ہے کہ وکیل موکل کی زندگی میں ہوتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اسکی وکالت ختم ہو جاتی ہے لیکن وصی موصی کے مرنے کے بعد وکیل ہوتا ہے اسکی زندگی میں اسے کوئی اختیار نہیں ہوتا۔سے عصبہ سے مراد بیٹے پوتے۔باپ اور باپ کی طرف سے تمام مرد رشتہ دار ہیں۔ترجمہ : کسی عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر یا اس کے خاندان میں سے کسی صاحب دوا ہے کی اجازت یا حاکم وقت کی اجازت کے بغیر جائز نہیں ہے۔