ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 31 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 31

۳۱ لیکن ولایت مال میں ضروری نہیں ہے۔اس نے ولایت مال کے لئے ریشر کا پایا جانا ضروری قرار نہیں دیا۔جن فقہاء کے نزدیک رشد کے بغیر ان دونوں کا اختیار حاصل ہونا شرعاً درست نہیں ہے ان کے نزدیک ولایت حال میں بھی اُشد کا پایا جانا اسی طرح ضروری ہے جس طرح ولایت نکاح میں۔اس پر ابن رشد کا خیال یہ ہے کہ بے شک ولایت مال اور ولایت نکاح دونوں کے لئے رشد کا پایا جانا ضروری ہے لیکن ولایت نکاح اور ولایت مال دونوں میں ارشد کے مدارج میں فرق کرنا پڑے گا۔ولی کے عادل ہونے کے بارہ میں اختلاف اس وجہ سے ہے کہ ولی کے غیر عادل ہونیکی صورت میں اس بات کا اندیشہ باقی رہتا ہے کہ وہ ایسا رشتہ تجویز کر دے جو غیر مناسب ہو اور لڑکی کے معیار کے مطابق نہ ہو حالانکہ ولایت نکاح کا فریضہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ عادل ہو اور ولایت کے حقوق کی نگہداشت کر سکتا ہو۔اس پر ابن رشد اپنی رائے کا اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ اس کے متعلق یہ کہا ہیا سکتا ہے کہ ولایت نکاح کے لئے جن اوصاف کی ضرورت ہے ان میں عدالت کا شمار نہیں ہوتا کیونکہ معیاری رشتہ تلاش کرنے کا اصل محرک تو انسان کا یہ احساس ہے کہ لوگ اسے یہ طعنہ نہ دیں کہ اس نے اپنے خاندان کے لئے ایسا رشتہ منتخب کیا ہے جو اسکی شان کے شایاں نہیں ہے۔یہ احساس تو ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے اور جس عدالت کا ذکر اس باب میں کیا گیا ہے یہ سبھی چیز ہے لہذا اسے ضروری شرط قرار نہیں دیتا۔چاہیئے۔غلام کی ولایت اور عدالت میں بھی اسی وجہ سے اختلاف کیا گیا ہے کہ اس کی ذہنی پستی کی وجہ سے اس کے قومی میں ایک قسم کا نقص واقعہ ہو جاتا ہے۔عادل سے مراد اس جگہ صرف وہ شخص ہے جس کے اندر احساس ذمہ داری پایا جاتا ہو اور سوسائٹی میں اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔