ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 30
٣٠ نہ رہتا۔لیکن جب یہ شرائط منقول نہیں ہیں تو اس صورت میں ان دو امور میں سے ایک امر پر اتفاق ہونا چاہیئے۔اول، صحت نکاح کے لئے اولیاء کی شرط نہیں ہے اولیا صرف نگرانی کر سکتے ہیں۔ووم صحت نکاح کے لئے اولیاء کی رضامندی ضروری ہے مگر اولیاء کی صفات اور مراتب کی تمیز ضروری نہیں ہے۔اولیاء کے اوصاف اولیاء کے اوصاف کے متعلق تمام فقہا، اس بات پر متفق ہیں کہ ولی مسلمان۔بالغ مرد ہونا چاہیئے۔تین اشخاص کے متعلق اختلاف ہے یعنی غلام فاسق اور سفیہ غلام کے متعلق اکثر فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اس کی ولایت درست نہیں ہے لیکن ایام ابو حنیفہ کے نزدیک درست ہے۔اس کے متعلق اکثر اصحاب مالک کا مذہب یہ ہے کہ یہ امر ولایت کے لئے شرط نہیں ہے۔اور یہی مذہب امام ابو حنیفہ کا ہے۔لیکن امام شافعی کے نزدیک شد بھی ایک ضروری شرط ہے۔اور امام مالک سے ایک روایت امام شافعی کے مذہب کے موافق بھی بیان کی گئی ہے۔چنانچہ امام مالک کے شاگردوں میں نئے اشہب اور ابو مصعب اس روایت کے حامی ہیں۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ سوال ہے کہ نکاح کی ولایت مال کی وارات کے مشابہ ہے یا نہیں، پس جس کے نزدیک اشد ولایت نکاح میں ضروری ہے زر خرید غلام کا دستور چونکہ آجکل دنیا میں کی جگہ قانونا جائز نہیں ہے اسلئے یہ تم جیل کے دستور پر جہاں نہیں ہو سکتا۔ے اس جگہ سفینہ سے مراد وہ شخص ہے جو نفع اور نقصان میں تمیز نہ کر سکے۔اس کے لئے اردو میں کوئی ایسا متبادل لفظ نہیں مل سکا تو اس کے منظوم کو پوری طرح ادا کر سکے۔سے رشد سے مراد اس جگہ وہ صفت ہے جس کے ماتحت کوئی شخص نفع اور نقصان میں تمیز کر سکتا ہے یہ لفظ سفاہت کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے۔