ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 29
۲۹ پر کسی مذہب کی بنیا د کس طرح رکھی جاسکتی ہے؟ اسی طرح اس حدیث کی صحت کے متعلق بھی اختلاف ہے میں میں کہا گیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نکاح ام سلمہ سے کرتے وقت اس کے بیٹے کو ولی بننے کے لئے کہا تھا۔فریقین نے جو عقلی دلائل دیئے ہیں۔ابن رشد نے ان پر بھی تنقید کی ہے۔مثلاً وہ لوگ جو نکاح کے لئے ولایت کو شرط قرار نہیں دیتے وہ ایک عقلی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ بالغہ کو اپنے نکاح کے لئے اسی طرح آزادی ہونی چاہئیے جیسا کہ اسے اپنے مال میں تصرف کرنے کی آزادی ہوتی ہے۔اس دلیل کا ابن رشد نے یہ جواب دیا ہے کہ عورت کے اندر چونکہ فطری طور پر مرد کی طرف میلان پایا جاتا ہے اس لئے شریعت نے اسے اس غلطی سے بچانے کے لئے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کیا اپنے لئے کسی ایسے شخص کا انتخاب نہ کرلے جو اس کے مناسب حال نہ ہو یہ پابندی لگا دی کہ وہ اولیاء کی اجازت سے نکاح کرے اور اگر وہ اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کر بھی لے تو وہ اسے فسخ کر سکتے ہیں۔ابن رشد کہتے ہیں کہ اس پر بھی یہ اعتراض وارد ہوتا ہے۔کہ جب شریعت نے اولیاء کی رضا مندی لازم قرار دی تھی تو اسے اولیاء کی اقسام اور نوعیت کی تعیین بھی کرتی چاہئیے تھی۔اور ان کے مراتب بھی بیان کرنے چاہئے تھے کیونکہ ضرورت کے وقت تاخیر بیان جائزہ نہیں ہے اور اگر خود شارع علیہ السلام نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی تھی تو عام ضرورت کے پیش نظر آپ کے فعل اور عمل سے یہ مسئلہ اس حد تک واضح ہو جانا چاہیئے تھا کہ امت میں سے کسی شخص کو ولایت کے احکام کے بارہ میں کوئی ابہام باقی نے یہ کہتا کہ اس روایت کی صحت میں اختلاف ہے درست اعتراض نہیں ہے۔کیونکہ یہ اعتراض صرف اس صورت میں وزنی ہو سکتا ہے جبکہ یہ کہا جائے کہ اس واقعہ کی صحت کے متعلق اختلاف ہے جب ایک واقعہ کے متعلق تمام محدثین کا اتفاق ہے تو پھر اب صرف یہ اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ اس واقعہ کو کسی نے صحیح سند سے بیان نہیں کیا۔یہ اعتراض بھی اس لئے درست نہیں ہے کہ اس روایت کو نسائی نے صحیح سند سے نقل کیا ہے۔چنانچہ منتقی نے لکھا ہے وَاخْرَجَ النِّسَائی بسند صحيح عن أم سلمة کہ اس روایت کو نسائی نے ام سلمہ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے منتقی جلد منہ)