ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 13
۱۳ حاصل کرنا بھی ضروری نہیں ہے۔فقہار کا یہ خیال اس بنا پر ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ حتی تر عنہا سے اس وقت نکاح کیا تھا۔جبکہ آپ کی عمر چھ یا سات سال تھی۔اور رخصتانہ اس وقت ہوا تھا جبکہ آپ کی عمر نو سال تھی۔اور یہ رخصتانہ آپ کے والد بزرگوار حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اختیار سے ہی کر دیا تھا۔کیا باپ کے علاوہ دوسرا ولی بھی نکاح میں جبر کر سکتا ہے نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح باپ کے علاوہ کوئی دوسرا ولی بھی اپنی مرضی سے کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اس کے متعلق فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔نابالغ لڑکی کے متعلق امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس کے باپ اور دادا ہر دو کو اختیار ہے۔لیکن امام مالک کے نزدیک صرف باپ کو ہی اس امر کا حق حاصل ہے یا اس شخص کو حیس کو لڑکی کا باپ خود مقرر کردے۔بشرطیکہ باپ اس کے خاوند کی تعیین بھی کر دے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک ہر وہ شخص جس کو لڑکی کی ولایت حاصل ہے اسے لڑکی کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرنے کا اختیار ہے۔ہاں ! جب لڑکی بالغ ہو جائے تو اس صورت میں یہ حق باطل ہو جاتا ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد والْبِكْرُ تُسْتَأْمُرُ وَإِذْ نُهَا مُا تُهَا - عام ہے۔سوائے باکرہ نابالغہ کے جس کے متعلق فقہاء کا اجماع ہے کہ اس سے اذن حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تمام اولیاء ہمدردی اور مصلحت کے لحاظ سے باپ کے مساوی ہیں یا نہیں۔پس بعض تو یہ کہتے ہیں کہ تمام اولیاء اس معاملہ میں مساوی ہوں، اس لئے لے اس واقعہ سے فقہاء نے یہ استدلال کیا ہے کہ نابالغ لڑکی کا نکاح اس کا والد اپنی مرضی کے مطابق خود ہی کر سکتا ہے البتہ جب وہ لڑکی بالغ ہو جائے اور اسے وہ نکاح ناپسندیدہ ہو تو اس وقت اسے خیار بلوغ حاصل ہے یعنی وہ اس نکاح کو فسخ کرانے کی درخواست دے سکتی ہے۔