ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 14 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 14

۱۴۴ اس حکم میں باپ کے ساتھ ملحق ہیں لیکن بعض کے نزدیک ہمدردی کے لحاظ سے داد ا کے علاؤ دوسرے اولیاء باپ کے مساوی نہیں ہو سکتے۔کیونکہ ایک لحاظ سے دادا بھی باپ کے قائمقام ہی ہے لہذا صرف باپ اور دادا کو ہی اس امر کا اختیار حاصل ہے کہ وہ صغیرہ کا نکاح اس کی رضامندی کے بغیر کر دیں یہ مذہب امام شافعی کا ہے۔بعض فقہاء صرف باپ کو ہی اس امر کا حقدار قرار دیتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک جو ہمدردی اور شفقت باپ کے دل میں ہو سکتی ہے۔وہ کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتی ہذا صرف باپ ہی اس امر کا حقدار ہے۔یہ مذہب امام مالک کا ہے۔امام ابو حنیفہ صغیرہ کا نکاح باپ کے علاوہ دیگر اولیاء بھی اپنی مرضی سے کر سکتے ن دلیل ہیں۔امام ابوحنیفہ اپنے اس مذہب کی تائید میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پیش کرتے ہیں فَإِن خِفْتُمْ أَن لَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَ فى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّساء۔امام صاحب کے نزدیک اس آیت میں بتائی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اور یتیم کا لفظ صرف غیر بالغ کے لئے استعمال ہوتا ہے نیز ان خِفْتُم میں خطاب اولیا، نکاح کو ہے۔لہذا اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ غیر بالغہ کا نکاح ولی اپنی مرضی سے کر سکتا ہے خواہ وہ لڑکی کا باپ ہو یا کوئی اور ہو۔لیکن دوسرا فریق جو امام صاحب کے مذہب کے خلاف ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یتیم کا لفظ کبھی بالغہ کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے تُستَا مَرُ القيمة اس میں مقیمہ سے اذن طلب کرنے کا ارشاد ہے اور اذن صرف بالغہ سے ہی طلب کیا جاتا ہے لہذا معلوم ہوا کہ آیت مذکورہ سے جو استدلال امام ابو حنیفہ نے کیا ہے وہ لغوی لحاظ سے درست نہیں ہے۔امام ابو حنیفہ جو صغیرہ کے نکاح کا اختیار باپ کے علاوہ جملہ اولیاء کو دیتے ہیں وہ لڑکی کو بھی اس قدر اختیار ے ترجمہ : اور اگر تمہیں یہ خوف ہوکر تم یتیموں کے بارہ میں انصاف نہ کر سکو گے تو خیر تیم عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں کر لو۔(النساءع) سے دلائل کے لحاظ سے امام ابو حنیفہ " کا مذہب زیادہ مضبوط اور درست معلوم ہوتا ہے۔