ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 8 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 8

یہ بھی ایک رنگ میں رضا مندی کا اظہار ہی ہے۔غرض جن لوگوں نے نکاح کو ان عقود میں شمار کیا ہے جن کے لئے نیت کے علاوہ واضح الفاظ کی بھی ضرورت ہے۔وہ ایسے موقع پر نکاح یا زوجیت کے علاوہ اور کسی لفظ کو جائز قرار نہیں دیتے لیکن جن کے نزدیک الفاظ کا اعتبار نہیں ہے بلکہ نیت ہی اصل چیز ہے ان کے نزدیک تمام ایسے الفاظ سے نکاح مکمل ہو جاتا ہے جو نکاح شرعی کے مفہوم پریسی لحاظ سے دلالت کرتے ہوں۔ایجاب و قبول صحت نکاح کے لئے شرع میں ایجاب و قبول کے دو طریق بیان ہوئے ہیں۔اول :- میاں بیوی کی رضامندی کے علاوہ اولیاء کی رضا مندی۔یا صرف میاں اور بیوی کی رضامندی دوم - صرف اولیاء کی رضا مند تھی۔مندرجہ بالا ہر دو طریق رضامندی کے بارہ میں مختلف بجتیں ہیں جن میں سے بعض کے متعلق فقہار نے اتفاق کیا ہے اور بعض کے متعلق اختلاف۔چنانچہ ہم ان مسائل سے تعلق بعض ایسے اصول وقواعد بیان کریں گے جن سے ان کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔بالغ اور آزاد مردوں کے متعلق تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ نکاح کی صحت کے لئے انکی طرف سے واضح الفاظ میں رضامندی کا اظہار ضروری ہے۔لیکن اس بارہ میں اختلاف ہے کہ کیا آقا اپنے غلام کو یا وقتی بالغ مجور موسی لہ کو نکاح پر مجبور کر سکتا ہے یا نہیں۔امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ آت اپنے غلام کو مجبور کر سکتا ہے۔لیکن امام شافعی کو اس سے اتفاق نہیں۔لے یہ فرق اس اختلاف کی بناء پر ہے کہ بعض کے نزدیک بالغ عورت اپنے نفس کی خود مالکہ ہے اس لئے اسکی رضامندی ہی کافی ہے۔ولی کی رضا مندی حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اور بعض کے نزدیک ولی کی رضا مندی کے بغیر نکاح صحیح نہیں ہوتا۔سے جس کو وصیت کے جاری کرنے کا اختیار دیا جائے۔سے جس کی لین دین کی ذمہ داری سے برأت کا اظہار کیا گیا ہو۔ہے جس کے حق میں وصیت کی گئی ہو۔