ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 7
شوافع نے کہا ہے کہ جب پاکرہ عورت کا نکاح اس کے باپ یا دادہ کے علاوہ کوئی اورشخص کروانے والا ہو تو اس صورت میں باکرہ عورت بھی واضح الفاظ میں رضامندی کا اظہار کرے۔جمہور فقہاء کا مذہب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واضح ارشاد کی بناء پر ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: اَلْاَيْمُ اَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيهَا وَالْبِكْرُ تَسْتَأْمَرُ في نفيها و اونها حماتها اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ انعقاد نکاح کے لئے نکاح یا زوجیت کا لفظ استعمال کرنے کی صورت میں بیوہ عورت یا مرد کی طرف سے رضا مندی کے اظہار کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ مرد یہ کہے کہ بیٹے اپنا نکاح فلاں عورت سے قبول کیا۔یا اپنی زوجیت میں فلاں عورت کو لے لیا۔لیکن اگر ان الفاظ کی بجائے ہبہ یا بیع یا صدقہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے۔مثلاً بیوہ عورت یا مرد یہ کہے کہ سینے اپنے آپ کو فلان شخص کے لئے یا فلاں عورت کے لئے ہبہ کر دیا ہے یا فروخت کر دیا ہے۔یا صدقہ کر دیا ہے۔تو اس بارہ میں امام مالک اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ ان الفاظ سے بھی نکاح صحیح ہو جاتا ہے۔لیکن امام شافعی کے نزدیک صرف نکاح اور زوجیت کے الفاظ سے ہی نکاح صحیح ہوتا ہے باقی الفاظ اس کی صحت کے لئے کافی نہیں ہیں۔وجہ اختلاف یہ ہے کہ بعض فقہار کے نزدیک نکاح کی نیت کے ساتھ ساتھ ایسے واضح الفاظ کے اظہار کی بھی ضرورت ہے۔جن سے سوائے نکاح کے اور کوئی مفہوم نہ نکلتا ہولیکن بعض دوسرے فقہاء کے نزدیک نیست نکاح کے علاوہ ایسے خاص الفاظ استعمال کرنیکی ضرورت نہیں جو صرف نکاح کے لئے ہی استعمال ہوتے ہوں۔بلکہ اگر اس کا اظہار ایسے الفاظ سے بھی کر دیا جائے جو اپنے اصلی معنوں کے علاوہ نکاح کے مفہوم پر بھی دلالت کرتے ہوں تو ترجمہ :۔بیوہ عورت (نکاح کے معاملہ میں ) اپنے ولی کی نسبت اپنی مرضی کی زیادہ مالک ہے۔لیکن یا کرہ عورت سے اس کی رضا مندی کے متعلق دریافت کیا جائے اور اس کی خاموشی اس کی طرف سے اذن اور اظہار رضامندی ہے داس کو بخاری کے علاوہ متعد د محدثین نے روایت کیا ہے۔جو الن تلقی من جلد )