ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 9
اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک غلام کا نکاح کرنا آقا کے فرائض میں شامل ہے۔اس لئے آقا اس بارہ میں غلام پر جبر کر سکتا ہے لیکن بعض فقہاء کے نزدیک آقا کے فرائض میں یہ امر شامل نہیں ہے اس لئے وہ غلام پر جبر نہیں کر سکتا۔اسی طرح محجور موصی لہ کے متعلق بھی اختلاف ہے۔اور اسکی بنا یہ ہے کہ کیا نکاح ان مصالح میں سے شمار ہوتا ہے جن کا وقتی حالات تقاضا کرتے ہیں یا اس کا مصالح وقتی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ واجبات دینیہ میں سے ہے۔پس جو لوگ اس کو واجبات دینیہ میں شمار کرتے ہیں وہ اس بارہ میں جبر کے قائل ہیں۔اور جو لوگ اسے مصالح وقتی میں شمار کرتے ہیں وہ جبر کے قائل نہیں ہیں۔نکاح کے لئے عورتوں کی رضا مندی کے بارہ میں فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ بالغ بیوہ عورتوں کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے اور ان کے نکاح کے بارہ میں ان پر کسی قسم کا جبر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ النيب تحربُ عَنْ نَفْسِ ا لیکن حسن بصری اس اختلاف کرتے ہیں۔باکرہ بالغہ اور بیوہ غیر بالغہ کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔باکرہ بالغہ کے متعلق امام شافعی۔مالک۔اور ابن ابی لیلی یہ کہتے ہیں کہ اس کو صرف اس کا والد نکاح کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔لیکن امام ابوحنیفہ - نوری - اوزاعی۔اور ابو ثور اور بعض دوستی فقہاء کے نزدیک باکرہ بالغہ کی رضا مندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ایسی باکرہ جس کی ایک لمبے عرصہ سے کسی وجہ سے شادی نہ ہوسکی ہو۔امام مالک کے ایک قول کے مطابق اس کی رضامندی حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔یہ اختلاف دلیل خطاب کی بنار پر ہے جو یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ لا تُنكَحِ الْيَتِيمَةُ إِلَّا بِإِذْنِهَا نیز آپ نے فرمایا تُسْتَأْ مَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا حضور کے ان ارشادات سے بعض فقہار نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ وہ لڑکی جس کا باپ ے بیوہ یا مطلقہ عورت اپنی طرف سے رضا مندی کا اظہار خود کرے۔اس روایت کو محدثین کی ایک جماعت نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے الشَّيْبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِن ولیتھا۔اور اس کا مفہوم بھی وہی ہے جو متن کی روایت کا ہے (بحوالہ منتقی عنہ جلد ۲ ) ہے ترجمہ یتیم لڑکی کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔نیز یتیم لڑکی کے نکاح کے بارہ میں اس سے اجازت حاصل کی جائے۔(ابو داؤد کتاب النکاح ( باب في الاستيمار )