ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 3 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 3

میں قیاس ترسل " کہتے ہیں۔قیاس مرسل اس قیاس کو کہتے ہیں جس کی تائید شرعی اصل میں نہ ملتی ہو بلکہ عوام الناس کے حالات اور مجبوریوں کے پیش نظر ان کی بہبودی کے لئے کوئی فتوی دے دیا جائے۔اکثر علماء اس قسم کے قیاس کے قائل نہیں ہیں لیکن امام مالک کے مذہب کے مطابق عوام الناس کی مجبوریاں بھی شرعی احکام میں مناسب تبدیلیوں کا موجب بن جاتی ہیں۔منگنی اور نسبت طے کرنا جمہور فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ منگنی واجب نہیں ہے۔لیکن داؤد ظاہری کے نزدیک واجب ہے۔شوافع میں سے ابو عوانہ کا مذہب بھی یہی ہے۔چنانچہ انہوں نے اپنی صحیح میں یہ باب باندھتا ہے " وجوب الْخِطْبَة عِندَ العقد" کے عقد کے موقعہ پر منگنی اور نسبت طے کرنا واجب ہے۔یہ اختلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی حیثیت میں اختلاف کی بناپر ہے جو لوگ آپ کے فعل کو وجوب پر محمول کرتے ہیں وہ منگنی اور نسبت طے کرنے کو واجب قرار دیتے ہیں اور جو لوگ آپ کے فعل کو سنت پر محمول کرتے ہیں وہ اسے محض سنت ہی کہتے ہیں۔ایک شخص کے پیغام نکاح کی موجودگی میں دوسرے شخص کا پیغام نکاح بھیجنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کے پیغام نکاح بھیجوانے ے احناف کے نزدیک اس قیاس کا نام استحسان ہے۔سے الہ اس بارہ میں امام مالک کا مسلک درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ شریعت اسلامی اور رسول اکرم صہ یہ وسلم کی بعثت کی اصل غرض بنی نوع انسان کے لئے ایسی سو انتیں بیشتر کرتا ہے جن پر عمل کر کے انسان روزمرہ کی زندگی کو خوشیاں ندل اور پر امن بنا سکے۔اور وہ سوسائٹی کے لئے ایک بار نہ بن جائے۔پس میں حد تک اسلامی تعلیم کے بنیادی اصولوں میں تبدیلی واقع نہ ہوتی ہو شریعت اسلامی نے فروعی احکام میں لچک رکھ دی ہے تا کہ ہر انسان زندگی کی دوڑ میں اپنے لئے آسان اور پر امن راستہ تلاش کر سکے۔قیاس مرسل جس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ انسان اپنی مجبوریوں کے پیش نظر ایسا راستہ اختیار کرے جس پر گام ہوتے ہوئے شریعت کے اصولی احکام میں کوئی تبدیلی بھی واقع نہ ہوتی ہو اور انسان کی ضروریات بھی پوری ہو جاتی ہوں یقیناً ایک ایسا راستہ ہے جو ہر لحاظ سے قابل ستائش اور قابل قبول ہے۔