ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 2 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 2

نکاح کی دینی اور شرعی حیثیت اور فقہاء کا یہ مذہب ہے کہ نکاح کرنا واجب نہیں ہے۔بلکہ سنت موکدہ ہے لیکن اہل ظاہر کے نزدیک نکاح کرنا واجب ہے۔امام مالک کے مقلدین میں سے متاخرین کا یہ مذہب ہے کہ نکاح کا حکم ہر شخص کے حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔بعض لوگوں کے لئے نکاح واجب ہے۔بعض کے لئے سنت موکدہ اور بعض کے لئے مباح ہے۔ان کے نزدیک اگر کسی شخص کے متعلق یہ خوف ہو کہ وہ نکاح نہ کرنے کی وجہ سے گناہ میں ملوث ہو جائے گا۔تو اس کے لئے نکاح واجب ہے۔اور اگر کوئی شخص اپنے نفس پر ضبط کی طاقت رکھتا ہے۔اور اسے گناہ میں ملوث ہونے کا اندیشہ نہیں ہے تو اس کے لئے حسب حالات مستحب یا مباح ہے۔وجد اختلاف اس مسئلہ میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فانک خوا ما طاب لكم من النساء اور رسول کو پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد تَنَاكَ حُوا فانی مُكاثر بكُمُ الامم اور اسی قسم کے دیگر ارشادات میں الفاظ فَانكِحُوا اور تنال خوا میں صیغہ امر واجب کے معنی میں آیا ہے یا مستحب کے معنی میں یا مباح کے معنی میں۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ نکاح بعض کے لئے واجب ہے اور بعض کے لئے سنت موکدہ ہے اور بعض کے لئے مباح ہے۔وہ صرف مصلحت وقتی کا لحاظ کرتے ہیں۔مصلحت وقتی کا خیال کرنا قیاس کی ایک خاص قسم ہے جس کو اصول فقہ کی اصطلاح اے اہل ظاہر سے مراد امام داؤد ظاہری کے مقلدین ہیں امام داودین علی الاصفہانی شدھ میں پیدا ہوئے اور نہ میں قوت ہوئے۔ترجمہ : یعنی میں عورتوں کو تم پسند کرو ان سے نکاح کرو۔(سورہ نساء خ آیت ۳) سے ترجمہ : اے مسلما نو تم نکاح کرو کیونکہ اولاد کے بکثرت ہونے پر باقی استوں سے تمہاری فوقیت ہونے پر مجھے فخر ہو گا۔(ابوداود کتاب النکاح باب في تزویج اللی کار اور نسائی کتاب النکاح باب کرنا ہیتہ تزویج العظیم ان میں تناکحوا کی بجائے " تزوجوا " کے الفاظ ہیں لیکن مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔ے جن لوگوں کے نزدیک صیغہ امر وجوب پر دلالت کرتا ہے وہ نکاح کو واجب قرار دیتے ہیں اور جن کے نزدیک مستحب یا مباح پر دلالت کرتا ہے وہ نکاح کو بھی منتخب یا مباح قرار دیتے ہیں۔