ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 4
۴ پر دوسرا شخص نکاح کا پیغام بھجوائے۔چنانچہ اس ممانعت کے بعد فقہار نے اس بات میں اختان کیا ہے کہ کیا ایسا پیغام شرکا نا جائز ہوگا یا جائز اور اگر تا جب کہ ہو گا تو اس کا تحکم کیا ہے۔بچنا نچہ اس بارہ میں امام داؤد ظاہری کا مذہب یہ ہے کہ دوسرے پیغام پر جو نکاح ہوا ہے وہ قابل فسخ ہو گا لیکن امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک قابل فسخ نہیں ہوگا۔امام مالک کی اس بارہ میں دورائیں ہیں۔ایک رائے کے مطابق وہ قابل فسخ ہوگا۔لیکن دوسرے قول کے مطابق قابل فسخ نہیں ہو گا۔امام مالک کا تیسرا قول یہ ہے کہ رخصتاد سے قبل قابل فسخ ہو گا لیکن رخصتانہ کے بعد قابل فسخ نہیں رہے گا۔ابن قاسم فرماتے ہیں کہ جب ایک صالح مرد ایک دوسرے صالح مرد کے پیغام کے بعد پیغام بھیجے تو اس صورت میں دوسرا پیغام ممنوع ہے۔لیکن اگر پہلا شخص غیر صالح ہو اور دوسرا شخص صالح ہو تو اس صورت میں دوسرا پیغام جائز ہے۔رہا یہ سوال کہ دوسرا پیغام بھجوانا کس وقت نا پسندیدہ ہے تو اس کے متعلق یہ تصریح کی گئی ہے کہ جب ایک فریق کا دوسرے کی طرف میلان ظاہر ہو جائے تو ایسے وقت میں دوسرا شخص پیغام نہ بھیجوائے۔اس سے پہلے جائز ہے۔نے یہی رائے درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، المُؤمِن اخو الْمُؤْمِنِ فلا يحل للمؤمن أن يَبْتَاعَ عَلَى بَيْهِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَدَرَ ر صحیح مسلم کتاب النکاح باب تحریم الخطبة على خطبته اخیر کہ ایک مومن دو سر مومن کا بھائی ہے۔ہیں اس لئے یہ جائر نہیں کہ وہ دوسرے کے سودے پر سودا کرے۔یا ایک کے پیغام نکاح پر اپنی طرف سے پیغام نکاح بھیجوائے۔سوائے اس کے کہ گفتگو منقطع ہو جائے اور پہلے پیغام پر رشتہ طے نہ پائے۔اسی طرح ایک اور روایت میں آپ نے فرمایا :- لا يَخْبُ الرجل على خطبة اخيه حتى يَنكِحَ ادْيَرُكَ (بخارى كتاب النكاح باب لا يخطب على خطبته الخير ) کہ کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے پیغام نکاح پر اپنی طرف سے پیغام نہ بھجوائے۔جب تک وہ خود نکاح کی گفت گوئٹے نہ کرنے یا ترک نہ کر دے۔مندرجہ بالا روایات قانون اخلاق اور تمدنی اور معاشرتی رواج اس امر کی تائید کرتے ہیں کہ اگر چہ زندگی کے ہر شعبے میں ہر مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بہبودی اور بھلائی کے لئے جدوجہد کرے لیکن اسکی یہ جد و جہد ایسی نوعیت کی ہونی چاہیئے کہ اسکی وجہ سے کسی دوسرے شخص کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔