ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 288 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 288

۲۸۸ اسی طرح جمہور کی دوسری دلیل ابن عمر کی روایت ہے جس میں عجلانی کا قصد بیان کیا گیا ہے۔اس میں عجلانی نے اپنی بیوی کو زناء کرتے دیکھ کر رسول اکرم کو ان الفاظ میں اطلاع دی تھی :- إن تَتَلتُ قُتِلْتُ وَإِنْ نَطَقَتُ جُلِدُتُ وَإِنْ سَلَتُ سلتُ عَلَى غَيْظِ له اس روایت میں الفاظ ان نَطَقْتُ جُلِدتُ سے معلوم ہوتا ہے۔کہ خاوند بھی اگر بیوی پر زناء کا الزام لگائے اور گواہ پیش نہ کرے تو اُسے حق لگائی جائیگی۔دوسرے فریق یعنی امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ آیت بتان میں انکار یا رجوع کی صورت میں حق کا حکم نہیں پایا جاتا۔لہذا اس فیس فتومی دنیا نص قرآنی میں زیادتی ہو گی۔اور فقہاء کے نزدیک نفق پر زیادتی کرنا اس کے نسخ کے قائمقام ہے۔اور نسخ قیاس یا خبر واحد کی وجہ سے جائزہ نہیں ہے۔امام ابو حنیفہ جمہور کے مذہب پر یہ جرح کرتے ہیں کہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خاوند پر بعان سے انکار کی صورت میں حد لگائی جائیگی تو اس عقلی اعتراض پڑتا ہے کہ خاوند پریشان کرنے کی صورت میں بھی حد لگائی جانی چاہئیے۔کیونکہ رمان تو محض ایک قسم ہے اور قسم کی وجہ سے کسی اجنبی سے حد ساقط نہیں ہوتی لہذا خاوند سے بھی ساقط نہیں ہونی چاہئیے۔این رکشہ اس کے متعلق اپنی رائے یہ بیان فرماتے ہیں کہ حق تو یہ ہے کہ بحان ایک خاص رنگ کی قسم ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کا حکم بھی له ترجمه : اگر میں اس کو قتل کروں تو قصاص میں قتل کیا جاؤں اور اگر ! بات بیان کروں تو مجھے کوڑے لگائے جائیں اور اگر خاموشی اختیار کروں تو غم و غصہ کے سے خاموشی اختیار کریں۔۵۲ خبر واحد سے مراد حادیث کی وہ روایت ، جو صرف ایک ہی سند سے مروی ہو۔