ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 289 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 289

۲۸۹ خاص ہو۔یعنی لعان کے بعد حد ساقط ہو جانی چاہئیے۔لہذا امام ابو حنیفہ کی یہ جرح درست نہیں ہے کہ لعان کے بعد بھی خاوند پر حقہ لگائی جانی چاہئیے این رشد مزید فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو یہ ذکر آیا ہے کہ عورت جب قسم کھاتی ہے تو اس قسم کے ذریعہ وہ اپنے آپ سے عذاب کو دور کرتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَدْرَةٌ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَدَتِ بِاللهِ إِنَّهُ لَمِنَ الكَاذِبِينَه (نورغ ) اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عذاب سے کیا مراد ہے ؟ اس کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔چنانچہ اس کے متعلق امام شافعی - مالک - احمد اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اُسے حد لگائی جائے گی۔اور اس کی قدر تعلقات زوجیت کے عدم قیام کی صورت میں منٹو کوڑے ہیں۔امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اُسے قید کیا جائے۔یہاں تک کہ وہ لعان کرانے پر آمادہ ہو جائے امام صاحب کی دلیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے :- لا يَحِلُّ دَمُ امْرَأَى مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ زِنَا بَعْدَ اِحْصَانٍ أَوْ كُفْر بَعْدَ إِيْمَانٍ أَوْ قَتْلِ نَفْسٍ بِغَيْرِ نَفْسٍ لِه اس روایت میں زنا کی وجہ سے قتل کرنا جائز قرار دیا گیا ہے۔چونکہ مندرجہ لہ ترجمہ :۔اور وہ بیوی میں پر اس کا خاوند الزام لگائے۔اپنے نفس پر سے چار میں گواہوں کی ذریعہ سے جو قسم کھا کر دی گئی ہوں عذاب کو دور کرے یہ کہتے ہوے کہ وہ یعنی خاوند جھوٹا، نور ) کے ترجمہ : کسی مسلمان کا خون بہانا ہوے ان تین صورتوں کے جائز نہیں ہے راہ شادی کے بعد زنا کرنا (۲) اسلام نے کے بعد انکار کرنا (۳) کسی کو بغیر حق کے قتل کرنا۔(نسائی باب العود )