ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 287
YAL ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔اس کے بعد اس کی بیوی اللہ تعالٰی کی قسم کھا کہ چار مرتبہ یہ کہے کہ اس نے زناء نہیں کیا۔اور نہ اس کے خاوند نے اُسے زنا کرتے دیکھا ہے۔اگر وہ اپنے دعوی میں جھوٹی ہے تو اس پر خدا تعالے کی لعنت ہو۔بعض فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت کی بجائے اللہ تعالیٰ کا غضب کے الفاظ بھی کہہ سکتے ہیں۔اور میں شہادت دیتا ہوں کی بجائے میں قسم کھاتا ہوں۔اور اللہ تعالے کے نام کی بجائے کسی اور صفت کا ذکر بھی کر سکتے ہیں۔جمہور کا مذہب یہ ہے کہ نص قرآنی کے مطابق ان الفاظ کا استعمال درست نہیں ہے۔نیز بعان حاکم وقت کے حکم کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اگر ایک فریق قسم کھانے سے انکار کرے اگر خاوند اپنی بیوی پر زناء کا الزام لگانے کے بعد اس الزام سے رجوع کرے تو جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اُسے جھوٹا الزام لگانے کی حد لگائی جائیگی۔لیکن امام ابوحنیفہ کے نزدیک اُسے حد نہیں لگائی جائے گی بلکہ قید کیا جائیگا۔جمہور کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے :- وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَلَت له الورع ) (نوری) یہ ارشاد خاوند اور غیر خاوند دونوں کے لئے عام ہے جب لعان خاوند کے لئے شہادت کے قائمقام ہے تو اگر وہ یحان سے انکار کرے گا تو اُسے قاذن قرار دیا جائیگا۔اور جب اس کے پاس شہادت بھی نہیں ہے تو اُسے حد لگائی جائیگی۔نے ترجمہ : اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں۔(نورغ)