ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 212 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 212

۲۱۲ ناقص ہی ہو وہ مندرجہ بالا صورتوں میں مجامعت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔لیکن جن کے نزدیک پہلے خاوند کو حلال کرنے کے لئے جامعت کامل ضروری ہے۔ان کے نزدیک مندرجہ بالا صورتوں میں مجامعت صحیح نہیں ہوتی۔امام مالک کے نزدیک نکاح حلالہ میں عورت کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ مرد کی نیت کا اختیار کیا جائے گا۔یعنی اگر نکاح کے وقت عورت کی نیت یہ ہو کہ وہ اس سے طلاق حاصل کر کے پہلے خاوند کے پاس چلی جائے گی تو یہ نکاح فاسد نہ ہو گا۔لیکن اگر مرد کی نیت یہ ہو کہ وہ اس ذکاح کے بعد اس عورت کو طلاق دیدے گا تاکہ وہ اپنے پہلے خاوند کے پاس جا سکے تو اس صورت میں یہ نکاح فاسد ہوگا۔امام شافعی اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلالہ کا عقد نکاح جائز ہے۔یعنی وہ نکاح جو حلالہ کی نیت سے کیا گیا ہو اگر نکاح کے بعد دونوں میاں بیوی اس نکاح پر قائم رہنا چاہیں تو انہیں جدید نکاح کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہی عقد ہی کافی ہو گا جو ملالہ کی نیت سے کیا گیا تھا۔یہی مذہب داؤد ظاہری اور فقہاء کی ایک جماعت کا ہے بعض فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ حلالہ کا نکاح جائز ہے اور شرط باطل ہے یعنی نکاح کرنے کے بعد وہ اسے طلاق نہ دے بلکہ اپنے عقد میں رکھے۔یہ قول ابن ابی لیلی کا ہے۔اور ایک روایت کے مطابق سفیان ثوری کا بھی یہی مذہب ہے امام مالک اور ان کے اصحاب نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے استدلال کیا ہے جس کو علی بن ابی طالب- ابن مسعود ابوہریرہ اور عقبہ بن عامر نے روایت کیا ہے۔اور وہ یہ ہے:۔قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللهُ المُحَدِّلَ وَ الْمُحَلَّلَ له ان کا استدلال یہ ہے کہ آپ نے نکاح حلالہ کرنے والے اور کرانے والے کو اسی ه ترجمه رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حلالہ کرنے والے اور جب کسی لئے حلالہ کیا گیا ہو دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔(ترمذی باب في المحل والمحلل له )