ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 203
٢٠٣ بحث ثالث جب یہ بیان کیا گیا ہے کہ طلاق کی دو قسمیں ہیں یعنی دا، تبھی طلاق (۲) بائن طلاق اور ان دونوں کے احکام بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔تو اب یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ان دونوں قسم کی طلاقوں کے احکام دو الگ الگ ابواب میں بیان کئے جائیں پہلا باب طلاق رجعی میں رجعت کے احکام تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ خاوند رجعی طلاق کے بعد عدت میں رجوع کا حق رکھتا ہے۔خواہ اس کی بیوی اس رجوع پر رضامند ہو یا نہ ہو۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا نیز اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ اس قسم کی طلاق سے پہلے تعلقات زوجیت کا قیام ضروری ہے۔اور اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ اس طلاق کے لئے دو گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے اور طلاق واضح لفظوں میں دینی ضروری ہے لیکن اس بارہ میں اختلاف ہے کہ طلاق کے صحیح ہونے کے لئے گواہوں کا ہونا بطور شرط ہے یا نہیں ؟ اسی طرح رجوع کے لئے تعلقات زوجیت قائم کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ ے ترجمہ: اور اگر ان کے خاوند باہمی اصلاح کا ارادہ کر لیں تو وہ اس مدت کے اندر اندر ان کو اپنی زوجیت میں واپس لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔(بقرہ )