ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 199 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 199

199 قائل نہ تھے کہ مریض کی مطلقہ وارث نہیں ہوتی۔لہذا صحابہ کے اجماع کا دعوائے درست نہ رہا۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ عدت میں وفات کی صورت میں وہ ایک دوسرے کے وارث ہونگے ان کی دلیل یہ ہے کہ عدت کے ساتھ زوجیت کے بعض احکام متعلق ہیں گویا اس عرصہ میں اسے مطلقہ رحیمیہ قرار دیا جاتا ہے اس لئے وہ وارث ہونی چاہیئے۔- ایک روایت کے مطابق یہی قول حضرت عمرہ اور حضرت عائشہ کا بیان کیا جاتا ہے۔وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ جب تک وہ نکاح نہ کریگی اس کی وارث ہو گی اُنکی دلیل یہ ہے کہ ایک عورت دو خاوندوں کی وارث نہیں ہو سکتی۔اگر مریض کی بیوی نے خود طلاق طلب کی ہو یا خاوندے طلاق کا حق عورت کے سپرد کر دیا ہو اور اس نے خود اپنے اوپر طلاق وارد کر لی ہو تو اس صورت میں اس کے وارث ہونے کے متعلق اختلاف ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک وہ بالکل وارث نہیں ہوتی۔اور اعمی نے اس کے متعلق یہ فرق کیا ہے کہ اگر اس نے طلاق طلب کی ہو تو اس صورت میں وہ وارث ہوگی۔لیکن اگر اس نے طلاق کا اختیار اصل کر کے خود اپنے اوپر طلاق دارد کی ہو تو اس صورت میں وہ وارث نہ ہوگی۔امام مالک نے ان سب صورتوں میں یہ فتوی دیا ہے کہ وہ اپنے خاوند کی وارث ہو گی لیکن اس کا خاوند اس کا وارث نہ ہوگا۔این رشد کہتے ہیں کہ یہ مذہب اصول کے بالکل خلاف ہے